پیپلز پارٹی کے ناظمین بحال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ کی دو رکنی ڈویژن بنچ نے پیپلز پارٹی کے حامی چار ناظمین کو برطرف کرنے کے سندھ حکومت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بحال کردیا ہے۔ صوبے میں چار اضلاع کی مزید اضلاع میں تقسیم کے بعد چند ماہ قبل سندھ حکومت نے دادو کے ضلع ناظم ملک اسد سکندر، لاڑکانہ کے خورشید جونیجو، جیکب آباد کے شبیر بجارانی اور میرپورخاص کے پیر شفقت حسین شاہ جیلانی کو یہ کہہ کر برطرف کردیا تھا کہ ان اضلاع کی تقسیم کے بعد انہیں عوام کا مینڈیٹ حاصل نہیں رہا۔ یہ چاروں ناظمین پیپلز پارٹی کے حامی ہیں۔
یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان میں ضلع ناظمین کو ہٹایا گیا تھا۔ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ناظمین نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس صادق لغاری پر مشتمل سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے منگل کے روز درخواست پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں صوبائی حکومت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ لوکل گورئمنٹ آرڈیننس کے مطابق صوبائی حکومت کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ضلع ناظم کو برطرف کر سکے۔
عدالت نے چاروں ناظمین کی آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت دس دن کے اندر سپریم کورٹ میں فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتی ہے۔ اس عرصے کے دوران یہ ناظمین اجلاسوں کی صدارت کر سکیں گے تاہم اپنے اختیارات استعمال نہیں کر سکیں گے۔
فیصلے کے موقع پر عدالت میں درخواست گزار ضلع ناظمین میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا تاہم ان کے وکلا موجود تھے۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے حیدرآباد کے ضلع ناظم مخدوم رفیق الزماں کو بھی حال ہی میں برطرف کیا گیا ہے۔ لیکن انہوں نے عدالت سے رجوع نہیں کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||