BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 April, 2005, 23:06 GMT 04:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی پی رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی

آصف زرداری
آصف زرداری نے سنیچر کو داتا دربار جانے کا پروگرام بھی ملتوی کر دیا تھا
آصف زرداری کی لاہور آمد پر گرفتار ہونے والے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کا آغاز ہوگیا ہے اور سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب تک سینکڑوں افراد کی رہائی عمل میں آچکی تھی تاہم کئی کارکنوں اور رہنماؤں کو رہا نہیں کیا گیا۔

پنجاب کے وزیر اعلی چودھری پرویز الہی نے آصف زرداری کی حراست اور لاہور کے بلاول ہاؤس میں نظر بندی کے بعد ایک پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے آصف زرداری کی نظر بندی کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ گرفتار کارکنوں کو بھی رہا کر دیا جائے گا۔

وزیر اعلی کی پریس کانفرنس شروع ہونے سے چند لمحے قبل آصف زرداری کی رہائش گاہ کا محاصرہ ختم کر دیا گیا تھا اور رات گئے کارکنوں اور رہنماؤں کی رہائی کا آغاز ہوگیا۔

تھا نہ سرور روڈ کے ڈیوٹی محرر نے بتایا کہ حوالات میں پیپلز پارٹی کے چالیس سے زائد رہنما اور کارکن بند تھے اور تمام کو رہا کر دیا گیا۔

لاہور کے پرانے ائر پورٹ اور بلاول ہاؤس کے نزدیک واقع تھانہ سرور روڈ سے رہائی پانے والوں میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر ، پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین پنجاب کے صدر قاسم ضیاء، لاہور کے صدر عزیزالرحمان چن، لاہور کے جنرل سیکرٹری سمیع اللہ خان، سندھ سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر عبدالستار بچانی، سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ بھی شامل ہیں۔

ڈیوٹی افسر نے بتایا کہ ان میں سے کسی کے خلاف ابھی کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا تھا۔

ایک پولیس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پہلے مرحلےپر جب صرف قائدین کو رہا کیا گیا اور حوالات سے باہر جانے کی اجازت دی گئی تو انہوں نے جانے سے انکارکردیا اور کہا کہ وہ اس وقت تک باہر نہیں جائیں گے جب تک تھانے میں قید تمام کارکنوں کو بھی رہا نہیں کر دیا جاتا جس پر کچھ دیر بعد ان کے ہمراہ کارکنوں کو بھی رہا کر دیا گیا۔

پولیس ذرائع کاکہنا ہے کہ ابھی صرف ان افراد کو رہا کیا گیا ہے جو سنیچر کو ہی گرفتار ہوئے تھے اور ان کے خلاف کو ئی مقدمہ بھی درج نہیں ہوا تھاتاہم پہلے سے گرفتار جن افراد کے خلاف مقدمات درج ہیں انہیں جیل بھجوادیا گیا ہے۔

بے نظیر بھٹو کے ترجمان منور انجم کو بھی رہائی مل گئی ہے لیکن نظر بند پیپلز پارٹی پارلینمٹرین کے سربراہ مخدوم امین فہیم کی رہائی کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

ان کی طرح پیپلز پارٹی کے متعدددیگر افراد کی رہائی کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ آصف زرداری نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ناہید خان ، ساجدہ میر، شیریں رحمان اور صفدر عباسی کو گاڑی میں ڈال کر کسی دور دراز علاقے میں لے جایا گیا ہے اس کے بعد ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں آئی۔

آصف زرداری نے سنیچر کو داتا دربار جانے کا پروگرام ملتوی کر دیا تھا اور اعلان کیا کہ پارٹی کارکنوں کی رہائی تک وہ داتا دربار نہیں جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد