دفاعی بجٹ میں اضافہ نامناسب ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے بھارت کی طرف سے دفاعی بجٹ میں اضافے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اضافہ دونوں ممالک کے درمیان جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے معاملے پر بات چیت اور مجموعی صورتحال کے لئے مددگار ثابت نہیں ہو گا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے پیر کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے وزراء خارجہ نے حالیہ مذاکرات میں جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے معاملے پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا تو ضروری تھا کہ پہلے ان معاملات پر تفصیلی بات ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ ہتھیاروں کے حصول کے بارے میں حتی الامکان تحمل سے کام لیا جائے اور دونوں ممالک خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ اور مقابلے سے گریز کریں۔ترجمان نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی توازن کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔ ایک سوال پر مسعود خان نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے بھارت کو پیٹریاٹ میزائل کی فروخت سے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کمزور نہیں ہو گی مگر پاکستان کو خطرہ ہے کہ اس ڈیل سے خطے میں ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ سارک اجلاس کے بارے میں نئی تاریخ دینے کے سوال پر ترجمان نے کہا کہ اس بارے میں ممبر ممالک سے سفارتی سطح پر مشورے جاری ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں مسعود خان نے کہا کہ بین الاقوامی جوہری بلیک مارکیٹ کے بارے میں پاکستان کی تحقیقات جاری ہیں مگر اس سلسلے میں کوئی نئے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی آئی اے ای اے سمیت تمام بینالاقوامی ایجنسیز کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے اور یہ تعاون جاری رہے گا۔ سرینگر مظفرآباد بس سروس کے بارے میں بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے اس بیان پر کہ تکنیکی دشواریوں کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ بس سروس شروع کرنے میں تاخیر ہو جائے، ترجمان نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان کی تیاریوں جاری ہیں اورلائن آف کنٹرول پر چیک پوسٹوں کی تزئین کا کام بھی ہو رہا ہے تاہم اگر اس سلسلے میں بھارت کی کوئی دشواریاں ہیں تو پاکستان اس حوالے سے ضروری ردو بدل کے لئے تیار ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||