کوئٹہ سے طالبان کے سترہ حامی گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام کے مطابق پولیس نے چھاپے مار کر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے طالبان کے سترہ حامیوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان سترہ افراد میں سے دو طالبان کے دور میں سینیئر عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ ایک کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ افغانستان کے ہلمند صوبے میں نائب صوبائی گورنر تھے اور ایک کابل پولیس کے سابق سربراہ تھے۔ ابھی تک کسی پر بھی کوئی باقاعدہ الزام عائد نہیں کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق حالیہ چند ماہ کے دوران پاکستان سے طالبان اور ان کے حامیوں کا گرفتار کیا جانے والا یہ سب سے بڑا گروہ ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق بلوچستان کے پولیس سربراہ چودہری محمد یعقوب نے بتایا ہے کہ یہ گرفتاریاں جمعرات کی شام عمل میں آئی ہیں اور گرفتار شدگان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک دو روز میں صورتحال واضح ہوجائے گی۔ حکام نے شک ظاہر کیا ہے کہ ان میں سے چند کے القاعدہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ چودہری محمد یعقوب کے مطابق یہ چھاپے اس اطلاع پر مارے گئے تھے کہ کوئٹہ کے چند مقامات پر دہشتگرد عناصر روپوش ہیں۔ پولیس نے بتایا ہے کہ یہ چھاپے خروت آباد، پشتون آباد اور نواں کلی کے علاقوں میں مارے گئے۔ بلوچستان پولیس چیف نے گرفتار شدگان میں سے تین کے نام ملا عبدالرزاق، ملا شیر دل اور مفتی رحمت اللہ بتائے ہیں البتہ ہلمند کے نائب گورنر اور کابل پولیس کے سربراہ کے نام خفیہ رکھے گئے ہیں۔ امریکہ کی ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ کے آغاز کے بعد سے پاکستانی پولیس اور خفیہ اداروں نے اب تک ملک سے چچ سو مبینہ دہشتگردوں کو گرفتار کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||