پنجاب میں اٹھارہ لاکھ نشئی: رپورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب میں اینٹی نارکوٹِکس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر اشفاق الرحمن خان نے کہا ہے کہ لاہور نشئیوں کا گڑھ ہے اور یہاں ہر ضلع کے نشئی موجود ہیں۔ اپنے محکمہ کی گزشتہ سال میں کاکردگی کا سالانہ جائزہ پیش کرتے ہوئے بریگیڈیئر اشفاق نے کہا کہ تازہ سروے اور منشیات پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کی اطلاعات کے مطابق پاکستان میں نشہ کے عادی افراد کی تعداد پینتیس سے چالیس لاکھ ہے جس میں سے سترہ اٹھارہ لاکھ نشئی صرف پنجاب میں موجود ہیں۔ تاہم اینٹی نارکوٹکس فورس کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ اس وقت نشئیوں کی تعداد جاننے کے لیے ایک اور سروے ہورہا ہے جس کا پچہتر فیصد کام مکمل ہوچکا ہے جسکے بعد نشئی افراد کی صحیح تعداد کا تعین ہوسکے گا۔ بریگیڈیئر اشفاق نے کہا کہ ان کے محکمہ نے گزشتہ سال دو سو چوالیس کلوگرام سے زیادہ ہیروئین اور سترہ ٹن چرس پکڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں گزشتہ دو سال کے دوران میں ہیروئین کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور اس سال بھی یہی خطرہ ہے۔ بریگیڈئر اشفاق نے کہا کہ ہمارے ہاں سے زیادہ ڈرگ ہالینڈ کو جارہی ہے جہاں محدود پیمانے پر چرس کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ پنجاب اینٹی نارکوٹکس فورس کے کمانڈر نے کہا کہ منشیات کے معاملہ پر انڈیا سے بات چیت ہوئی اور یہ رابطہ کامیاب رہا اور دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے اچھے فیصلے ہوئے۔ ان کا کہنا تھاکہ ہیروئین کی تیاری میں استعمال کیا جانے والا ایک کیمیائی مادہ ایسیٹک این ہائڈریڈ انڈیا سے اسمگل ہوکر پاکستان آیا کرتا تھا کیونکہ یہ وہاں پر بنتا ہے اور فارماسیوٹیکل صنعت میں استعمال ہوتا ہے تاہم گزشتہ سال اس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||