بلوچستان: پوست کی تلفی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں پوست اور بھنگ کی فصل تلف کرنے کے لیے انسداد منشیات کے ادارے نے کارروائی شروع کی ہے اور اب تک کوئی ایک سو چالیس ایکڑ رقبے پر کاشت فصل کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ انسداد منشیات کے ادارے کے بلوچستان میں تعینات ڈائریکٹر بریگیڈیئر لیاقت علی طور نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں اس سال ساڑھے چار ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پوست اور بھنگ کی فصل کاشت کی گئی ہے اور ان میں زیادہ تر علاقے نئے ہیں جہاں پہلے یہ فصلیں کاشت نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک منصوبے کے تحت پہلے اُن علاقوں میں کاروائی کی جا رہی ہے جہاں فصلیں تیار ہیں۔ اس وقت کارروائی جعفر آباد کے نہری علاقوں میں جاری ہے جہاں انہیں سخت مذامت کا سامنا ہے۔ گزشتہ روز تمبو کے علاقے میں آپریشن کے دوران کچھ افراد نے انسداد منشیات کے ادارے کے اہلکاروں پر فائرنگ شروع کردی تھی اور ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا تھا۔ جوابی کارروائی میں ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔ بریگیڈیئر طور کے مطابق وہ شخص اپنے ہی لوگوں کی گولیوں کا نشانہ بنا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انیس سو ننانوے میں پاکستان کو پوست سے پاک علاقہ قرار دے دیا گیا تھا لیکن اب پھر اس کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجوہات ماہرین زیادہ آمدن بتاتے ہیں۔ اس کاروبار میں ملوث افراد ایک ایکڑ زمین پر پوست کاشت کرنے کا دو لاکھ روپے تک معاوضہ ادا کرتے ہیں۔ بلوچستان میں اس وقت منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت کوئی اڑھائی لاکھ افراد بلوچستان میں منشیات استعمال کرتے ہیں جن میں اسی ہزار افراد ہیروئن کے عادی ہیں۔ لیاقت علی طور کے مطابق زیادہ تر منشیات افغانستان سے پاکستان اور دیگر ممالک کو سمگل ہوتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے منشیات کے بارے میں قائم ادارے کے مطابق گزشتہ سال بلوچستان میں لگ بھگ ساڑھے چھ ہزار ایکڑ رقبے پر پوست اور بھنگ کاشت کی گئی تھی جن میں سے کچھ تلف کر دی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||