پشاور میں غیر معمولی سیکورٹی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کی صبح ختم ہونے والے صدر جنرل پرویز مشرف کے دورہ پشاور کے دوران شہر میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات دیکھنے کو ملے۔ اس سے قبل شاید ہی صدر کے دورے کے دوران اتنے سخت اقدامات کئے گئے ہوں۔ ایک رات قیام کے بعد جنرل مشرف بدھ کی صبح اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئے تو ایک مرتبہ پھر ان کے قافلے کے راستوں پر دو رویہ ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا۔ سائیکل سواروں تک کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ سڑک کے دونوں جانب بڑی تعداد میں پولیس اور فوجی تعینات رہے جو جدید مواصلاتی آلات کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہے۔ پشاور کے بین القوامی ہوائی اڈے کو بھی چاروں جانب سے سیکورٹی اہلکاروں نے گھیرے میں لے رکھا تھا۔ ہوائی اڈے کے رن وے کے ایک جانب شہر کی مصروف جمرود روڈ واقعہ ہے پر بھی بکتر بند گاڑیاں اور پولیس اہلکار موجود تھے جبکہ قریبی عمارتوں کی چھتوں پر فوجی مسلح کھڑے رہے۔ سیکورٹی کا یہ عالم تھا کہ خیبر روڈ تو بند تھا ہی فوجی گاڑیوں میں سیکورٹی اہلکار ذیلی گلی کوچوں میں بھی گھومتے نظر آئے۔ یہ تمام انتظامات فوج نے خود سنبھال رکھے تھے جبکہ پولیس بھی مدد کے لئے موجود تھی البتہ نیم فوجی ملیشیا فرنٹیر کور کو اس میں استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ عام شہریوں کو ایسے حالات میں دو دن اپنی منزل تک پہنچنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پشاور میں ٹریفک نظام اس طرح کا ہے کہ اگر ایک مرتبہ تسلسل ٹوٹ جائے تو پھر بڑی مشکل سے اپنی معمول کی جگہ پر آتے ہیں۔ ایک نجی کمپنی میں کام کرنے والے محمود شاہ کا کہنا تھا کہ اگر عوام کو اتنی مشکلات کا سامنا کرنا پرتا ہے تو ’پھر صدر صاحب اسلام آباد میں ہی بھلے۔ ان کا یہ دورہ کوئی اتنا ضروری بھی نہیں تھا۔’ صدر پرویز مشرف نے اس دورے کے دوران خیبر میڈیکل کالج کی گولڈن جوبلی تقریبات میں شرکت کی اور گورنر ہاوس میں قبائلی علاقوں سے نو منتخب کونسلروں سے خطاب کیا۔ صدر کے اس دورے کے پروگرام کو بھی انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا۔ ایک اور معمر شہری عبدالکریم نے نسل در نسل چلی آ رہی اس کہاوت کو یاد کروایا کہ اگر سامنے سے کالی بلی گزر جائے تو اچھا شگون نہیں ہوتا۔ اسی طرح ان کے بقول اگر سامنے سے کسی اعلی اہلکار کی سیاہ گاڑی بھی گزر جائے تو اچھا نہیں ہوتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||