ضمنی الیکشن: ایم ایم اے کی جیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے علاقے مالاکنڈ میں قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں متحدہ مجلس عمل کے امیدوار کی کامیابی نے واضح کر دیا ہے کہ دینی جماعتوں کا اتحاد اب بھی عوام میں اپنی مقبولیت قائم رکھے ہوئے ہے۔ غیرسرکاری نتائج کے مطابق ایم ایم اے کے چالیس سالہ سید بختیار معانی تینتیس ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ مسلم لیگ (ق) کے سلیم سیف اللہ خان انیس ہزار اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے انجینیئر ہمایون خان سترہ ہزار کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ سیاسی مبصرین اس انتخابی معرکے کو مرکز بمقابلہ صوبہ، سیکولر ورسس دینی قوتوں اور مڈ ٹرم انتخابات کے زاویوں سے دیکھتے رہے۔ انہیں بنیادی اجزاء نے اسے اتنا دلچسپ بنا دیا تھا۔ بہرحال ایم ایم اے نے ایک کپڑوں کے تاجر کے ذریعے اپنی قومی اسمبلی کی نشست برقرار رکھی جوکہ جماعت اسلامی کے مولانا عنایت الرحمان کی وفات سے خالی ہوئی تھی۔ جبکہ مرکز میں حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) سلیم سیف اللہ کی صورت میں ایک مضبوط، سرمایہ دار اور بااثر امیدوار کھڑا کر کے بھی یہ نشست حاصل نہ کر سکی۔ یہ انتخابی شکست سلیم سیف اللہ کے سیاسی کیرئر کے لئے کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ وہ اکتوبر دو ہزار دو کے عام انتخابات میں بھی اپنے آبائی علاقے لکی مروت سے ہار چکے تھے۔ انہوں نے اپنے علاقے سے دور مالاکنڈ کو ایک اور انتخابی معرکے کے لئے چن کر ایک جوا کھیلا جو کامیاب نہیں ہوا۔ اس فیصلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ منتخب ایوان میں پہنچنے کے لئے کتنے بیتاب تھے۔ اس سکشت نے ان کی سیاسی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ مالاکنڈ مذہبی اعتبار سے قدامت پسند علاقہ ہے۔ سلیم سیف اللہ کے خلاف دینی قوتوں کا یہ پروپیگنڈا کہ انہیں ووٹ دینا صدر مشرف یا امریکہ کو ووٹ دینے کے مترادف ہے کا اثر رہا۔ دوسری بات ان کے خلاف یہ جاتی ہے کہ وہ علاقے سے نہیں۔ انتخاب کے بعد انہیں ملنا مقامی لوگوں کے لئے انتہائی مشکل کام ہوسکتا تھا جبکہ ایم ایم اے کے اراکین کے بارے ایک عام تاثر یہ ہے کہ وہ باآسانی قابل گرفت ہیں۔ اس انتخابی مہم کے دوران مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ترقیاتی منصوبوں کی ایک دلچسپ دوڑ دیکھنے کو ملی۔ اربوں اور کڑوڑوں کے گیس، بجلی اور سڑکوں کے منصوبوں کا اعلان کیا گیا۔ انتخاب کے خاتمے پر وزیر اعلی سرحد اکرم خان دورانی نے مالاکنڈ کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ انتخابی مہم کے دوران مرکز کی جانب سے مختلف علاقوں کو فراہم کئے جانے والا ترقیاتی سامان جس میں بجلی کے کھمبے، گیس اور پانی کے پائپ شامل ہیں علاقے سے باہر منتقل نہ کیا جائے کیونکہ بقول ان کے یہ ایجنسی کے عوام کا حق ہے۔ علاقے میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران اتنے ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات ہوئے اور کام ہوا کہ دیگر علاقوں کے لوگ بھی اس پر رشک کرنے لگے اور سوچنے پر مجبور ہوئے کہ کیا ہی اچھا ہو اگر ان کے حلقے میں بھی ضمنی انتخاب کا اہتمام ہو۔ ضمنی انتخاب میں ایک اور قابل افسوس بات اکثر علاقوں کے مرد حضرات کا یہ فیصلہ تھا کہ عورتوں کو ووٹ ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مردوں کے ووٹ سے ہی فیصلہ کیا جائے گا۔ اس علاقے میں ماضی میں بھی ایسا ہوا ہے اور اب بھی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ تقریبا آدھی آبادی کو رائے دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئ۔ ایک مقامی شخص نے بتایا کہ عورتوں نہ بھی تو جو مرد کہیں گے وہیں ٹھپا لگانا تھا تو پھر ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یعنی عورت کی حیثیت گائے بیل سے ذیادہ نہیں ہوئی۔ انتخابی مہم کے دوران تو فریقین ایک دوسرے پر بدعنوانی کے الزامات لگاتے رہے لیکن اختتام میں بدمزگی سلیم سیف اللہ کی جانب سے انتخابی نتائج ماننے سے انکار سے پیدا ہوا ہے۔ ایک اخباری بیان کے مطابق انہوں نے الیکشن کمیشن سے نتائج روکنے اور تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ شاید ملکی سیاست کا المیہ ہے کہ شکست باعزت طریقے سے تسلیم کرنا ابھی یہاں لوگوں کو نہیں آیا۔ اس کے لئے شاید ہمیں مزید کئی انتخابات تک انتظار کرنا پڑے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||