مالاکنڈ کے الیکشن: معرکہ زوروں پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے نیم قبائلی علاقہ ملاکنڈ میں آج کل ایک دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہاں قومی اسمبلی کی ایک نشست کا ضمنی انتخاب منعقد ہو رہا ہے لیکن اس انتخابی معرکے نے مرکز اور صوبے کے علاوہ سیکولر اور دینی قوتوں کے درمیان مقابلے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس معرکہ میں چار امیدوار میدان میں ہیں لیکن اصل مقابلہ تین ’ہیوی ویٹس‘ کے درمیان ہی قرار دیا جا رہا ہے۔ یعنی مرکز میں حکمراں مسلم لیگ کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلیم سیف اللہ، متحدہ مجلس عمل کے سید بختیار معانی اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے انجینیر ہمایوں خان کے درمیان ہے۔ سیاسی جماعتوں نے اس معرکے کے لیے صف بندی مکمل کر لی ہے۔ پیپلز پارٹی شیرپاؤ اور پاکستان عوامی پارٹی سلیم سیف اللہ کی حمایت کر رہی ہیں جبکہ عمران خان کی تحریک انصاف متحدہ مجلس عمل کے امیدوار کی اور عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پی پی پی پی کے امیدوار کا ساتھ دی رہی ہیں۔ مرکزی اور صوبائی وزراء انتخابی تحریک کے آخری دنوں میں ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ انتخابی مہم عروج پر ہے۔ آخری ایام میں وزیر اعلی سرحد اکرم خان درانی جبکہ مرکز کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ اپنے اپنے امیدواروں کی حمایت کے لیے جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی وفاقی اور صوبائی وزراء کی فوج حلقے کے دورے کر کے سوئی گیس کی فراہمی جیسے بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے بلند بانگ وعدے کرچکے ہیں۔ اس مرتبہ ووٹر بھی کافی ہوشیار رہے انہوں نے امیدواروں سے پہلے ترقیاتی کام کرنے اور بعد میں ووٹ دینے کی یقین دہانی کی پالیسی اپنائی۔ صورتحال ایسی بنی کہ ضلعی حکومت کو ترقیاتی کاموں پر دفعہ 144 کے ذریعے پابندی لگانی پڑی۔ اس انتخاب کو مرکزی اور صوبائی حکومت کی اب تک کی دو سالہ کارکردگی کا امتحان بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن مبصرین کے خیال میں یہ امتحان مرکز سے زیادہ صوبے کی متحدہ مجلس عمل حکومت کے لیے کڑا ہے کیونکہ یہ نشست اکتوبر دو ہزار دو کے انتخاب میں ایم ایم اے کے امیدوار مولانا عنایت اللہ نے جیتی تھی۔ جماعت ہاری تواس کے ہاتھ سے نشست جائے گی جبکہ مرکز میں حکمراں مسلم لیگ ہاری تو اس کے ہاتھ سے کچھ نہیں جائے گا۔ متحدہ مجلس عمل کے اندر پھوٹ کے آثار فل الحال ان کے امیدوار کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ ناراض جماعت جمیعت علما اسلام (سمیع الحق گروپ) نے مرکز اور صوبائی حکومت کی مبینہ مداخلت سے بے زار ہوکر بالآخرانتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے ضلعی عہدیدار بھی اطلاعات کے مطابق جماعت اسلامی سے ناراض دیکھائی دے رہے ہیں۔ جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے درمیان بظاہر اختلافات مقامی زکواۃ اور دیگر امور پر ہیں۔ ایم ایم اے ان اندرونی اختلافات کو جتنا جلد ختم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے اس کے لیے اتنا ہی بہتر۔ مسلم لیگ (ق) کے امیدوار سلیم سیف اللہ بنیادی طور پر ہیں تو سرحد کے جنوبی ضلع لکی مروت سے لیکن گزشتہ عام انتخابات میں وہاں سے ناکامی کے بعد اب یہاں قسمت آزماء رہے ہیں۔ یہاں بھی ناکامی ان کی سیاسی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اگرچہ انہیں اس وقت مرکزی حکومت کی پوری حمایت حاصل ہے لیکن ان کے خلاف بڑی بات یہ جاتی ہے کہ یہ نشست مسلم لیگ (ق) کی کبھی رہی ہی نہیں۔ پیپلز پارٹی کا علاقے میں بڑا ووٹ بنک ہے۔ ماسوائے انیس سوستانوے اور دو ہزار دو میں جب اس پر مسلم لیگ (ن) اور متحدہ مجلس عمل کامیاب رہی یہ نشست پی پی پی نے جیتی ہے۔ پی پی پی نے اس مرتبہ سابق ضلعی ناظم اور سابق وفاقی وزیر حنیف محمد خان کے بیٹے انجینر ہمایوں خان کو کھڑا کیا ہے۔ پشاور کے مقامی اخبارات کئی ہفتوں سے ضمنی انتخابات کی بھرپور کوریج دے رہے ہیں۔ بیانات کا سلسلہ پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ کوئی اسے سیکولر اور دینی قوتوں کے درمیان تو کوئی اسے مرکز اور صوبے کی حکومت کے درمیان ٹاکرا قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان میں ضمنی انتخابات کی روایت کے مطابق صوبائی حکومت کے حمایت یافتہ امیدوار ہی یہ انتخاب جیتے ہیں۔ یہ عمل سندھ اور پنجاب میں دیکھا جا چکا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ایم ایم اے سن دو ہزار دو میں اپنی غیرمتوقعے کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھ پاتی ہے یا نہیں۔ قومی اسمبلی کی نشست این اے پینتیس کے دو لاکھ سے زائد ووٹر کافی پیچیدہ صورتحال سے دوچار نظر آتے ہیں۔ انہیں اب پندرہ دسمبر کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا مرکز کا حمایت یافتہ امیدوار ان کے لیے بہتر ثابت ہوگا یا پھر صوبے کا۔ کون ان کے مسائل حل کرنے کی بہتر حالت میں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||