اخوانزادہ قتل کیس کا فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم کے ایک رکن کو تحریک جعفریہ پاکستان کے مرکزی رہنما انور علی اخونزادہ کے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت کے جج نے اپنے فیصلہ سناتے ہوئے کالعدم لشکر جھنگوی کے مبینہ رکن شکیل کو اعتراف جرم کرنے کے بعد عمر قید کے علاوہ دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ عدالت نے جرم ثابت نہ ہونے پر دو ملزمان اسحاق اور شہزاد گل کو رہا کر دیا ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد بدھ کے روز ایک اور ملزم نادر خان ایڈووکیٹ کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ باقی تین ملزمان کا فیصلہ جمعرات تک محفوظ کر دیا تھا۔ کالعدم تحریک جعفریہ پاکستان کے مرکزی سیکٹری جنرل انور علی اخونزادہ کو ٹھیک چار سال قبل نومبر سن دو ہزار میں پشاور کے کوہاٹی کے علاقے میں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے سولہ گواہوں کے بیانات قلمبند کروائے جبکہ موقعہ کا گواہ کوئی نہیں تھا۔ مقدمے میں ایک ملزم قاری بشیر اب بھی مفرور ہیں۔ اس ہلاکت کو ملک میں جاری فرقہ وارانہ تشدد کا حصہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||