’انڈیا کے ساتھ تمام مسائل حل ہونگے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ شدت پسند اقلیت کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان جاری امن مذاکرات کو نقصان نہیں پہنچانے دیا جائے گا۔ برازیل کے اپنے پہلے دورے کے موقع پر برازیلیہ میں بات کرتے ہوئے جنرل مشرف نے کہا ، ’شدت پسند اقلیت کو جو عسکریت کے ذریعے اکثریت پر حاوی ہونے کی کوشش کررہی ہے، امن مذاکرات کے عمل کو نقصان نہیں پہنچانے دیا جائے گا۔ ‘ جنرل مشرف نے کہا کہ وہ امن کےعمل کو آگے بڑھانے کے لئے تیار ہیں لیکن تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے اور انڈیا کو اس سلسلے میں زیادہ اہم اقدامات کرنا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں تو انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک تمام معاملات حل کرلیں گے۔ اس سے پہلے انہوں نے برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا سے ملاقات کی اور تجارتی اور سفارتی معاملات پر بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں نے منشیات کی سمگلنگ اور بھوک کے خاتمے کے لئے معاہدوں پر دستخط بھی کئے۔ کسی بھی پاکستانی صدر کا یہ لاطینی امریکہ کا پہلا دورہ ہے۔ برازیل کے بعد جنرل مشرف میکسیکو اور ارجینٹائن جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||