مڈ ٹاؤن مین ہیٹن میں نیڈر کے حامی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیری کان آسمان سے باتیں کرتی امپائر سٹیٹ بلڈنگ کے بالکل نیچے کاروں اور دکانوں کی روشنی کے ایک سمندر میں دفتر سے تھکے ہارے گھر واپس جاتے نیویارکرز کو ایک ہاتھ سے پمفلٹ بانٹ رہا تھا اور مسلسل ’ووٹ فار نیڈر‘ کے نعرے لگا رہا تھا۔ جیری کان کو اس بات کی بالکل بھی پرواہ نہیں کہ بڑی کمپنیوں کے سخت مخالف جس آزاد امیدوار رالف نیڈر کی وہ حمایت کر رہا ہے، وہ ایک ایسے الیکشن میں جس میں دونوں امیدواروں کے درمیان انتہائی سخت مقابلہ ہے، اصل میں خود الیکشن جیتے بغیر بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سن دو ہزار کے الیکشن میں تیس لاکھ امریکی ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے والے مسٹر نیڈر پر ڈیموکریٹ پارٹی الزام لگاتی ہے کہ اگر وہ پچھلے الیکشن سے دستبردار ہو جاتے توصدر بش کی بجائے ان کے امیدوار ال گور امریکہ کے صدر ہوتے۔ لیکن جیری کان اور ان جیسے لاکھوں ووٹر اس خیال کو رد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر رالف نیڈر نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹ توڑے بھی ہیں تو وہ اس لئے کہ ووٹر ڈیموکریٹس کی بجائے نیڈر کو ووٹ دینا چاہتے تھے اور یہ ہر ووٹر کا حق ہے کہ وہ اپنی پسند کی سیاسی پارٹی کو ووٹ دے۔ رالف نیڈر اور ان کے حامیوں کا اصرار ہے کہ امریکی ووٹر کو دو پارٹیوں کی قید سے آزادی ملنی چاہیے اور اگر ڈیموکریٹک پارٹی اتنے ووٹ حاصل نہیں کر پاتی کہ ان کا امیدوار صدر بن سکے تو اس صورت میں ان ووٹروں پر الزام نہیں لگایا جا سکتا جو دونوں پارٹیوں کو پسند نہیں کرتے۔ لیکن پچھلے الیکشن میں بہت واضح طور پر ڈیموکریٹ امیدوار ال گور کو نقصان پہچانے کی وجہ سے اس مرتبہ امریکہ کے ایسے کئی لاکھ ووٹر جو عموماً نیڈر کو ہی ووٹ ڈالتے ہیں، ڈیموکریٹ امیدوار جان کیری کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس احساس سے کہ نیڈر کو ووٹ ڈالنے سے شاید صدر بش ایک مرتبہ پھر چار سال کے لئے ملک کے صدر بن جائیں، بہت سے ووٹر کیری کی کھلے عام حمایت کر رہے ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ گرین پارٹی نے رالف نیڈر کو صدارتی الیکشن کے لئے اپنا امیدوار نہیں بنایا اور وہ ریفارم پارٹی کی طرف سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ اگرچہ گرین پارٹی کی حمایت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے رالف نیڈر اس مرتبہ ابھی تک کئی ریاستوں میں بیلٹ پیپر پر اپنا نام چھپوانے کے لیے کوالیفائی بھی نہیں کر پائے، لیکن وہ جیری کان جیسے ووٹروں کی حمایت کے ساتھ اس بات پر مصر ہیں کہ وہ ان انتخابات میں حصہ لیں گے اور امریکی عوام کو تیسری چوائس سے محروم نہیں ہونے دیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||