بش نے غلطی مان لی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدرارج بش نے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مہم کو کروسییڈ یعنی صلیبی جنگ کا نام دینے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ امریکی ٹیلی وثرن ایے بی سی پر بولتے ہوئے مسٹر بش نے یہ تسلیم کیا کہ انہیں اس لفظ کا استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا ۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد ایک بیان میں صدر بش نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف صلیبی جنگ کافی دیر تک چلے گی۔ امریکی صدر کی جانب سے لفظ صلیبی جنگ کے استعمال پر دنیا بھر میں رد عمل دیکھنے میں آیا تھا اور لوگوں نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ امریکی صدارتی انتخاب میں ایک چھ دن باقی ہیں اور جان کیری اور صدر بش کی انتخابی مہم زوروں پر ہے۔ کل کی مہم کے دوران مسٹر بش نے میعشت پر بات کی جبکہ جان کیری نے عراق کی جنگ کو ہی اپنا موضوع بنائے رکھا۔ جان کیری نے صدر بش پر الزام لگایا کہ مسٹر بش رائے دہندگان سے باتیں راز میں رکھے ہوئے ہیں۔ جان کیری نے کہا کہ عراق پر امریکی حملے کے بعد 350 میٹرک ٹن دھماکہ خیز سامان غائب ہو گیا ۔ اس کے بعد انہوں نے واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیاجس میں کہا گیاہے کہ بش انتظامیہ عراق اور افغانستان میں کاروائیوں کے لئے نیے فنڈز حاصل کرے گا۔ جان کیری نے کہا کہ امریکی عوام اور کتنی قیمت چکائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||