بش، کیری، اہم ریاستوں کے دورے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے گیارہ روز پہلے صدر بش اور جان کیری نے اپنی انتخابی مہم کا دائرہ کار ملک کی اہم ریاستوں تک بڑھا دیا ہے۔ صدر بش نے پنسلوینیا میں اپنے حامیوں سے خطاب کے دوران کہا کہ ان کے مدِمقابل جان کیری امریکیوں کو دہشتگردی سے محفوظ رکھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ادھر وسکانسن میں جان کیری نے سابق صدر جان ایف کینیڈی کی بیٹی کے ساتھ مل کر خواتین ووٹروں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا کہ صدر بش کی پالیسیوں سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ دونوں امیدواروں نے ٹی وی پر تند و تیز اشتہاروں کا ایک نیا سلسلہ بھی شروع کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ ایک اشتہار میں چار سو غراتے ہوئے بھیڑیے دکھائے گئے ہیں جن کے بیچ ایک خاتون جان کیری پر قومی سلامتی کے امور پر انتہائی کمزور ہونے کا الزام عائد کر رہی ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے نائب صدارت کے امیدوار جان ایڈورڈز نے اس اشتہار کو امریکیوں کو خوفزدہ کرنے کی ناپسندیدہ کوشش قرار دیا ہے۔ دوسری طرف ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف کے اشتہارات میں صدر بش کو ایسے شتر مرغ سے تشبیہ دی گئی ہے جس نے ریت میں سر دبا رکھا ہے اور کیری کا موازنہ بلندیوں پر پرواز کرنے والے عقاب سے کیا گیا ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان امید کر رہے ہیں کہ گزشتہ ماہ چار مرتبہ بائی پاس کے مرحلے سے گزرنے والے سابق صدر بِل کلنٹن جلد صحت یاب ہو کر جان کیری کی انتخابی مہم میں حصہ لیں گے۔ واشنگٹن میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ انتخابات کے بارے میں تجزیوں سے پتا چلا ہے کہ مقابلہ بہت سخت ہے اور انتخابی نتائج کی پیشنگوئی بھی مشکل ہے اگرچہ قومی سطح کے بیشتر تجزیوں میں صدر بش کو معمولی سبقت حاصل ہے۔ صدر بش نے پنسلوینیا، اوہائیو اور فلوریڈا میں انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ امریکہ میں صدارتی انتخاب جیتنے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹ چاہئیں جبکہ پنسلوینیا، اوہائیو اور فلوریڈا میں الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 68 ہے۔ امریکہ میں الیکٹورل ووٹوں کی مجموعی تعداد 538 ہے۔ جان کیری نے وسکانسن اور نیواڈا کا دورہ کیا جہاں ماہرین کی رائے میں فیصلہ کسی بھی امیدوار کےحق میں ہو سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||