وزیرستان: گیارہ قبائلی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ کل ایک جرگے پر گولہ باری کی وجہ سے مرنے والوں تعداد گیارہ ہوگئی ہے جبکہ چھ زخمی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات ضرور کی جائے گی۔ قبائلیوں کے مطابق اس جرگے کے شرکاء واپس لوٹنے کے لئے گاڑیوں میں سوار ہو رہے تھے کہ گولوں کا نشانہ بنے۔ اس سے مقامی حکام کے مطابق ایک گاڑی میں سوار گیارہ افراد موقعے پر ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے ہیں۔ اس جرگے میں شریک قبائلیوں نے تسلیم کیا ہے کہ اس میں مقامی جنگجو بھی موجود تھے جن سے تلاشی سے متعلق مذاکرات ہورہے تھے ۔ اس واقعے سے قبل جرگے نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ آج سے کوٹکی کے علاقے میں القاعدہ کے مشتبہ افراد اور دو چینی انجینروں کے اغوا میں ملوث عبداللہ محسود کی گرفتاری کے لیے گھر گھر تلاشی کی مہم کا آغاز کریں گے۔ البتہ ابھی واضع نہیں کہ اس واقعہ کے بعد یہ تلاشی مہم شروع کی جائے گی یا نہیں۔ سیکورٹی دستوں نے چار روز قبل ہی کارروائی کر کے یہ علاقہ عبداللہ محسود کے جنگجوؤں سے خالی کروایا گیا تھا۔ اس کے بعد یہاں گھر گھر تلاشی لی گئی جس میں اسلحہ بارود برآمد ہونے کے علاوہ کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی تھی۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ قبائلی جرگہ بھی حملے کی زد میں آیا ہے۔ چند قبائلیوں کے مطابق یہ گولے سیکورٹی دستوں نے چضمالی اور جنڈولہ کے مقامات سے داغے تھے البتہ سرکاری اہلکار اس کی تردید کررہے ہیں۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات کروائی جائی گی تاکہ معلوم ہوسکے کہ یہ ہلاکتیں کس کی گولہ باری سے ہوئیں۔ ادھر پشاور میں کور کمانڈر لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے ہلاک ہونے والوں کے لئے دو لاکھ جبکہ زخمیوں کے لئے ایک لاکھ روپے کی امداد کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ امداد حکومت کی جانب سے کسی امداد سے الگ ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||