’روکا معمول کے دورے پر آئی ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ایشیا کے متعلق امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹینا روکا منگل کے روز اپنی سرکاری مصروفیات کا آغاز کر رہی ہیں۔ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں تعاون، جوہری عدم پھیلاؤ، پاک بھارت مذاکرات، افغانستان کی صورتحال اور دیگر امور پر بات چیت کے لیے وہ صدر جنرل پرویز مشرف، وزیراعظم شوکت عزیز، وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری اور سیکریٹری خارجہ ریاض کھوکھر سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ترجمان مسٹر گریگ کراؤچ نے بی بی سی کو بتایا کہ چار روزہ دورے پر گزشتہ سنیچر کے روز پاکستان پہنچنے والی امریکی نائب وزیر تین دن شمالی علاقوں کے پر فضا مقام پر اپنی چھٹیاں گزارنے کے بعد پیر کی شام اسلام آباد پہنچ گئی ہیں۔ امریکی نائب وزیر خارجہ کے دورے کے بارے میں ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ معمول کا دورہ ہے اور وہ کسی خاص مقصد کے لیے نہیں آئیں۔ ان کے مطابق مس روکا پاکستانی حکام سے تمام باہمی دلچسپی کے امور پر معمول کی بات چیت کریں گی۔ مس روکا کی ابتدائی دو دنوں کی مصروفیات کے متعلق سرکاری طور پر کچھ بھی نہیں بتایا جا رہا تھا جس سے مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ امریکی انتخابات قریب آرہے ہیں اور صدر بش کو مبینہ طور پر اپنے مخالف امیدوار پر واضح برتری حاصل نہیں ہے اور ایسے میں اسامہ بن لادن یا ایمن الزواہری کی گرفتاری صدر بش کے لئے خاصی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ بعض تجزیہ نگار کہہ رہے تھے کیونکہ روکا کچھ عرصہ قبل پاکستان میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ایجنٹ کے طور پر بھی کام کرتی رہی ہیں اس لیے ان کی غیراعلانیہ مصروفیات پر مزید شک ظاہر کیا جا رہا تھا۔ امریکی نائب وزیر خارجہ منگل کو حکومت اور حزب اختلاف کے بعض سرکردہ نمائندوں کے اعزاز میں افطار/ عشائیہ بھی دے رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||