| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی تنظیم کے اثاثے منجمد
امریکہ کی وزارتِ خزانہ نے ایک پاکستانی فلاحی تنظیم کے اثاثے یہ کہہ کر منجمد کردیے ہیں کہ وہ القائدہ کو مدد فراہم کررہی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ الاختر نامی فلاحی ادارے کے روابط اسامہ بن لادن کی القاعدہ تنظیم سے ہیں۔ انہوں نے ادارے کو ’دہشتگردی کی حامی‘ تنظیم قرار دیا ہے۔ امریکی وزیرِ خزانہ جان سنو نے کہا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد دہشتگرد گروہوں کو فنڈز کی فراہمی منقطع کرنا ہے۔ انہوں نے کہا ’اس ادارے کو بند کرنے سے دہشتگردوں کو فنڈز فراہم کرنے کا ایک اور ذریعہ ختم کردیا گیا ہے۔ اور امید ہے کہ ایسے اقدامات سے عراق میں امریکی فوجیوں اور عراقی شہریوں کے خلاف حملے کرنے والوں کو روکا جاسکے گا‘۔ ’الاختر‘ اب ان تین سو بیس تنظیموں میں شامل ہو گئی ہے جن پر دہشتگردوں کی مدد اور حمایت کا الزام ہے۔ امریکہ کی اس کاروائی کے بعد اب کسی بھی امریکی شہری یا ادارے کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اس تنظیم کے ساتھ کسی بھی قسم کان لین دین کرے۔ امریکی بنک اب ادارے کے کھاتوں کا معائنہ کریں گے اور اس کے نام میں موجود ہر اثاثہ منجمد کردیا جائے گا۔ الاختر تنظیم اپنے آپ کو غیر منافع بخش غیر سرکاری ادارہ کہتی ہے اور اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ پاکستان اور افغانستان میں صرف اور صرف انسانی بنیاد پر امدادی کام کرتی رہی ہے۔ لیکن امریکہ کا کہنا ہے کہ ادارے نے سن دو ہزار ایک میں افغانستان کے خلاف امریکی جنگ کے دوران زخمی ہونے والے ایک شخص کو طبی امداد فراہم کی تھی جس کا تعلق مبینہ طور پر القائدہ سے تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||