| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل ابی زید بھی پاکستان پہنچ گئے
امریکی مرکزی کمانڈ کے سربراہ جنرل جان پی ابی زید دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ نائب وزیر خارجہ رچرڈ آرمیٹیج اور معاون وزیر خارجہ کرسٹینا روکا کے بعد وہ تیسرے اعلیٰ امریکی اہلکار ہیں جو پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ چکلالہ کے ہوائی اڈے پر چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز اور مسلح افواج کے اعلیٰ افسران نے ان کا استقبال کیا۔ پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اپنے دورے کے دوران وہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور وائس چیف آف آرمیی سٹاف جنرل محمد یوسف خان سے ملاقات کریں گے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ بش انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکاروں کے دورے کا مقصد پاکستان سے عراق میں فوجیں بھیجنے پر بات چیت کرنا ہے۔ بی بی سی اردو سروس سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کو محض ایک اتفاق قرار دیا اور کہا کہ اس دورے کے لئے کسی قسم کی پلاننگ نہیں کی گئی ہے۔ ’یہ مسئلہ بڑے عرصے سے زیر غور ہے۔ پہلے برطانیہ اور بعد میں امریکہ نے پاکستان سے درخواست کی تھی کہ وہ عراق کے لئے اپنی فوجیں بھیجے۔‘ مسٹر مسعود خان نے کہا کہ پاکستان امریکہ کی طرف سے اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والے قرار داد کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||