نعرے بازی، ہنگامہ، استعفے کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کے دوعہدے رکھنے سے متعلق بل کی منظوری اور سپیکر قومی اسمبلی کے رویے کے خلاف حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے قومی اسمبلی کے ایوان کے اندر اور باہر جمعہ کو شدید احتجاج کیا اور نعرے لگائے۔ حزب اختلاف کے کئی اراکین، اسمبلی کے باہر شاہراہ دستور پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور سڑک بلاک کردی جس سے ٹریفک معطل ہوگئی۔ حکومت کے حامی ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ صدر کے دو عہدے رکھنے کا جو بل جمعرات کے روز اسمبلی سے منظور کیا گیا ہے وہ اس ایوان کی توہین ہے۔ انہوں نے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تو حزب اختلاف کے راجہ پرویز اشرف نے ان سے تحریر کردہ استعفیٰ چھین لیا۔ علامہ طاہر القادری نے کہا کہ فوجی وردی کے حق میں بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کے ایوان میں بیٹھنے کے لیے ان کا ضمیر نہیں مانتا اور ان کی جماعت نے ان کے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اب وہ اپنا استعفیٰ واپس نہیں لیں گے۔ جمعہ کی صبح جیسے ہی اجلاس سپیکر چودھری امیر حسین کی صدارت میں شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے نکتۂ اعتراض پر سپیکر سے کہا کہ آپ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوچکی ہے اور اس کے متعلق فیصلہ ہونے تک آپ اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتے۔ سپیکر نے راجہ پرویز اشرف سے کہا کہ وہ کس قاعدے کے تحت یہ بات کر رہے ہیں؟ راجا پرویز اشرف نے کہا کہ پوری دنیا میں یہ جمہوری روایت ہے کہ جب سپیکر کے خلاف تحریک پیش ہوجائے تو وہ اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتا۔ سپیکر نے ان کا موقف مسترد کرتے ہوئے کارروائی جاری رکھنی چاہی تو حزب مخالف کے رکن یوسف ٹالپور نے کورم کی نشاندہی کردی۔ سپیکر نے جب گنتی کرائی تو کورم پورا نہیں تھا اور اجلاس کی کارروائی معطل کردی گئی۔
قاضی حسین احمد نے کہا کہ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اب وہ عوام میں جائیں گے۔ حزب اختلاف کے اراکین صدر جنرل پرویزمشرف کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے باہر سڑک پر آگئے اور شاہراہ دستور پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے جس سے سڑک بند ہوگئی اور ٹریفک معطل ہوگئی۔اس دوران ناہید خان اور دیگر اراکین ’گو مشرف گو‘ ’چور چوکیدار کو ایک دھکا اور دو‘، ’فوجی وردی نامنظور‘ وغیرہ کے زوردار نعرے لگاتے رہے۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے سڑک پر اپنے خطاب میں احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا اور بعد میں پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ ادھر قومی اسمبلی کے سپپیکر نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ قواعد کے مطابق حزب اختلاف کی ان کے خلاف جمع کرائی گئی عدم اعتماد کی تحریک پر کارروائی کے لیے انہوں نے جمع بائیس اکتوبر کا دن مقرر کیا ہے۔ ان کے مطابق جب ووٹنگ کا دن مقرر ہوگا اس دن سے وہ کسی اجلاس کی صدارت نہیں کرسکتے۔ حکومت نے سپیکر کا مائیک توڑنے اور ان کے گرد گھیرا کرکے نعرے لگانے کے معاملے پر حزب اختلاف کے خلاف تحریک استحقاق پیش کی جو منظور ہوگئی۔ اس موقع پر سابق وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے تجویز دی کہ حزب اختلاف کے رہنماؤں سے پہلے بات کی جائے اور وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر شیرافگن کے مطابق تحریک پر کارروائی سےقبل حکومت حزب مخالف سے رابطہ کرے گی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اب پیر کی شام تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||