ہندوستانی ترانہ اور ’سندھ‘ کا تنازعہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ملک کے قومی ترانے ’جن گن من ادھینایک جے ہے‘ سے لفظ س’سندھ‘ خارج کرنے کی ایک درخواست مسترد کر دی ہے۔ عرضی گزار نے کہا تھا کہ قومی ترانے میں ملک کے بعض علاقوں کا ذکر ہے اور اس میں سندھ بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ سندھ اب ایک دوسرے ملک پاکستان کا صوبہ ہے اس لیے اسے ہندوستان کے قومی ترانے سے خارج کیا جانا چاہئے۔ تاہم عدالت نے قومی ترانےمیں کسی طرح کی تبدیلی کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے کہا کہ قومی ترانے کو اختیار کرنے والی قانون ساز اسمبلی نے ایک قراردار منظور کی تھی جس کے تحت قومی ترانے میں کسی تبدیلی کا اختیار صرف پارلیمان کو دیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس لئے عرضی گزار کو اس سلسلے میں عدالت کی بجائے حکومت سے رجوع کرنا چاہئے۔ قومی ترانہ ’جن گن من ادھینایک جے ہے‘ ہندوستان کے معروف شاعر، فلسفی اور نوبل انعام یافتہ رابندرناتھ ٹیگور نے تخلیق کیا تھا۔ اس ترانے میں جن سطروں پر اعتراض کیا گیا تھا ان کا ترجمہ یہ ہے ’(اے مادر وطن) آپ ہم سبھی کے ذہن و دماغ کی حکمراں ہیں۔ ہندوستان کی تقدیر آپ سے ہے۔ آپ کے نام سے پنجاب، سندھ، گجرات، دراوڈ، بنگال اور مراٹھا کے دلوں میں گرمی آ جاتی ہے۔‘ یہ ترانہ پہلی بار 1911 میں گایا گیا تھا۔ قومی ترانے سے متعلق ایک تنازعہ گزشتہ ہفتے بھی پیدا ہوا تھا۔ کیرالہ کی نصابی کتابوں میں اشاعت کی غلطی سے لفظ ’ گجرات‘ چھپنے سے رہ گیا۔ گجرات میں نریندرمودی حکومت نے اس پر سخت اعتراض کیا اور الزام لگایا کہ کیرالہ کی کانگریس حکومت نے دانستہ طور پر گجرات کا نام قومی ترانے سے خارج کیا ہے۔ کیرالہ حکومت نے اسے اشاعت کی غلطی بتایا اور اس کے لئے گجرات حکومت سے معافی مانگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||