ایٹمی تجربےکااثر، حکومتوں کو نوٹس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں صوبۂ راجستھان کی ہائی کورٹ نے انیس سو اٹھانوے میں کیے جانے والے پوکھرن نیوکلیائی تجربات سے متاثرہ افراد کی مدد نہ کرنے پر وفاقی اور ریاستی حکومتوں سے جواب طلب کیا ہے۔ مفاد عامہ کی ایک عذر داری میں مرکزی و ریاستی حکومتوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ حکومت جوہری تجربات سے پیدا ہونے والی حرارت اور اس کے خطرناک اثرات کا جائزہ لینے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔ اپیل میں کہا گيا ہے کہ جوہری تجربات سے پیدا ہوئی زبردست حرارت کے سبب آس پاس کےگاؤں بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اس سے صرف انسان ہی نہیں بلکہ علاقے میں بہت سے جانوروں اور پودوں کی افزائش پر بھی مضر اثرات مرتب ہوئے ہیں تاہم اس مسئلے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کورٹ نے دونوں حکومتوں سے چھ ہفتے کے اندرجواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ ہندستان نے 1998 میں ریاست راجستھان میں پوکھرن کے مقام پر پانچ جوہری تجربات کیے تھے جس کے سبب اس علاقے کی دیواروں میں شگاف اور کچھ بیماریوں کے پھیلنے کی اطلاعت آئی تھیں لیکن حکومت نے اسے تسلیم نہیں کیا ہے۔ تجربے کے بعد اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے جب وہاں کا دورہ کیا تھا تو کھیتالی نامی گاؤں کے باشندوں نے ان کے خلاف احتجاج کیا تھا اور علاقے کی سانٹیفکٹ سروے و بہتر طبی سہولیات کامطالبہ بھی کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||