BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 September, 2004, 16:38 GMT 21:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امام بارگاہ پر حملے میں ملوث تھا: ملزم

۔
کوئٹہ میں صرف تین وارداتوں میں سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے
کوئٹہ میں امام بارگاہ اور عاشورہ کے جلوس پر حملوں کے حوالے سے گرفتار ملزم داؤد بادینی نے بدھ کو عدالت میں آٹھ وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔

مقامی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کے سامنے داؤد بادینی نے اپنے بیان میں اقبال جرم کیا ہے۔ بادینی کوگزشتہ سال آٹھ جون کو پولیس کیڈٹس پر چار جولائی کو امام بارگاہ پر اور اس سال دو مارچ کو عاشورہ کے جلوس پر حملوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس پرویز بھٹی نے بتایا ہے داؤد بادینی نے نہ صرف اقبال جرم کیا ہے بلکہ دیگر ساتھیوں کے نام بھی بتائے ہی۔ انھوں نے کہا ہے کہ داؤد بادینی نے پولیس تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ انہوں نے تربیت افغانستان میں حاصل کی تھی اور جہاد افغانستان میں حصہ بھی لیا ہے۔

اس کے علاوہ مختلف وارداتوں میں استعمال ہونے والا موٹر سائیکل کسی نہ کسی طرح افغانستان بھجوا دیا جا تا تھا اور واردات کے لیے یہاں لایا جاتا تھا۔

پرویز بھٹی نے بتایا ہے کہ وہ موٹر سائیکل اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے۔ انھوں نے کہا ہے کے ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ انیس سو ننانوے سے اہل تشیع پر کئی حملوں میں ملوث رہا ہے۔

کوئٹہ میں اہل تشیع پر صرف تین وارداتوں میں سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے اور کئی افراد زخمی ہوئے تھے۔

بلوچستان میں اس طرح کے واقعات گزشتہ کچھ سالوں میں پیش آئے ہیں۔ دو مارچ کے واقعہ کے بعد شہر میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جن کے نتیجے میں فوج کو طلب کرکے کرفیو لگا دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد