مکین: مدرسے میں فوجی کارروائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں اطلاعات کے مطابق مکین کے علاقے میں سیکورٹی فورسز نے منگل کی صبح ایک مدرسے پر گولہ باری شروع کی ہے جہاں حکام کو شک ہے کہ القاعدہ کے غیرملکی افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ مکین سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گولہ باری سے مولانا محمد شفیق کے مدرسے کی دیواریں گر گئی ہیں جب کہ قریب میں مولانا کا مکان بھی گولوں کی زد میں آیا ہے۔ البتہ کسی جانی نقصان کی اطلاع ابھی نہیں ملی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مدرسے میں غیرملکیوں اور ان کے مقامی حامیوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مولانا خود بھی حکومت کو مطلوب ہیں۔ فی الحال سیکیورٹی دستے گولہ باری کر رہے ہیں لیکن انہوں نے زمینی کارروائی شروع نہیں کی ہے۔ ایک مقامی قبائلی جنگجو عبداللہ محسود نے بھی اسی قسم کی اطلاعات ملنے کی تصدیق کی ہے۔ ٹیلیفون پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ مزاحمت میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے، البتہ انہوں نے واضع کیا کہ یہ جنگ پاکستان نہیں بلکہ امریکہ کہ خلاف کی جا رہی ہے۔ عبداللہ نے جنوبی وزیرستان کی تمام سڑکوں کو فوجی نقل و حرکت کے لئے ناقابل استعمال بنانے کا بھی دعوی کیا۔ درین اثناء روغا کے علاقے میں عینی شاہدوں کے مطابق تازہ فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فوجیوں کو روغا فورٹ میں اتارنے کی خبر بھی دے رہے ہیں۔ یہ علاقہ وانا سے تقریبا ستر کلومیٹر شمال مشرق میں واقعے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||