BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 August, 2004, 08:40 GMT 13:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیر داخلہ سےاستعفے کا مطالبہ
جماعت اسلامی نے وزیر داخلہ فیصلہ صالح حیات کے استعفے کا مطالبہ کیا
جماعت اسلامی نے وزیر داخلہ فیصلہ صالح حیات کے استعفے کا مطالبہ کیا
پاکستانی وزیرداخلہ کی جانب سے جماعت اسلامی کے کارکنوں پر القاعدہ سے تعلق رکھنے کا الزام عائد کیے جانے پر اپنے ردعمل میں جماعت اسلامی نے فیصل صالح حیات کو ’نااہل اور غیرذمہ دار‘ قرار دیا ہے۔

جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری منور حسن نے کہا کہ صدرِ پاکستان اور دیگر قومی رہنماؤں پر ہونیوالے قاتلانہ حملوں سے توجہ ہٹانے کیلئے وزیر داخلہ جماعت اسلامی کو نشانہ بنارہے ہیں۔ ’اپنی نااہلی کو چھپانے کیلئے اور اپنی خفت مٹانے کے لئے انہوں نے یہ بات کی ہے۔‘

منور حسین نے فیصل صالح حیات کے استعفے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ القاعدہ سے متعلق جو لوگ گرفتار کیے گئے ہیں ان کے خلاف کوئی ثبوت فراہم نہیں ہوئے ہیں۔ ’اب بھی جو لوگ ان کی حراست میں ہیں ہمارے جانے پہچانے ہیں اور ان میں سے کسی کے بارے میں بھی کوئی ثبوت آج تک نہیں فراہم ہوا۔‘

جماعت اسلامی کے رہنما کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں کوئی قانون اور عدالت ہے تو وزیر داخلہ کو اپنا الزام عدالت میں ثابت کرنا چاہئے۔ ’ابھی تک جتنے لوگ مختلف اوقات میں گرفتار ہوتے رہے ہیں بالآخر اس بنیاد پر چھوڑے گئے کہ ان کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوسکا۔‘

پیر کے روز فیصل صالح حیات نے جماعت اسلامی کے کارکنوں پر القاعدہ سے تعلق رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کئی غیرملکیوں کو جماعت کے ارکان کے گھروں سے گرفتار کیا گیا۔

اس سوال کے جواب میں کہ حالیہ دنوں میں بعض گرفتاریاں ایسے مقامات سے ہوئی ہیں جو یا تو جماعت اسلامی کے زیراستعمال ہیں یا رہے تھے، منور حسن نے کہا: ’سوال یہ نہیں ہے کہ گرفتار ہونا، سوال یہ ہے کہ کوئی چیز کسی کے بارے میں ثابت تو آج تک نہیں ہوسکی۔‘

انہوں نے پی پی پی سے الگ ہوکر فیصل صالح حیات کی سربراہی میں حکومت میں شامل ہونے والے سیاسی گروہ پر جماعت اسلامی کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ گروپ جماعت اسلامی کو اپنے مقاصد میں ایک رکاوٹ سمجھتا ہے۔

منور حسن نے یہ بھی کہا کہ فیصل صالح حیات کی قیادت میں یہ گروپ ملک میں فوج کی حکمرانی بنائے رکھنا چاہتا ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنما نے کہا: ’انہی لوگوں نے جنرل صاحب سے جاکر یہ مطالبہ کیا تھا کہ آپ وردی میں رہیں اور وردی ہرگز نہ اتاریں اور حال ہی میں انہوں نے بیان دیا ہے کہ یہ اگر وہ وردی اتار دیں گے تو بحران پیدا ہوجائے گا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد