’خلفان غلانی ہمارے قبضے میں ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ حال ہی میں گرفتار کیے جانے والے القاعدہ کے سرکردہ کارکن احمد خلفان گیلانی کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا گیا ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ احمد خلفان ابھی پاکستانی سیکورٹی حکام کے پاس ہیں جہاں ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ القاعدہ سے تعلقات کے شبہے میں دو افریقی شہری بھی پنجاب کے مختلق شہروں سے منگل کے روز گرفتار کیے گئے ہیں اور ان سے بھی ابھی تفتیش ہو رہی ہے، تاہم انہوں نے گرفتار ہونے والے افریقی شہریوں کے نام بتانے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے سرکردہ اراکین سے خاصی اہم معلومات ملی ہے اور پاکستان اس ضمن میں ’دہشتگردی‘ کے خلاف جنگ میں اپنے اتحادیوں سے بھی رابطے میں ہے۔ یاد رہے کہ تنزانیہ کے شہری احمد خلفان کو پاکستان کے وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کے آبائی شہر گجرات سے پاکستانی حکام نے فائرنگ کے طویل تبادلے کے بعد گرفتار کیا تھا۔ حکام کے مطابق ان کے قبضہ سے کمپیوٹر بھی برآمد کیا گیا تھا جس میں امریکہ اور برطانیہ میں حملوں کے متعلق منصوبہ بندی کی معلومات ملی تھیں۔ واضح رہے کہ بدھ کے روز ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ احمد خلفان کو پاکستان نے امریکہ کے حوالے کردیا ہے اور امریکہ نے اسلام آباد سے خصوصی طیارے کے ذریعے انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||