میزبانی کا طریقِ کار ناقابل قبول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشیائی ممالک ورلڈ کپ کی میزبانی کے موجودہ طریقۂ کار سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ اس سلسلے میں متفقہ طور پر آواز اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر جگ موہن ڈالمیا اس ضمن میں پیش پیش ہیں۔ ایشیئن کرکٹ کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے کولمبو سے آئے ہوئے جگ موہن ڈالمیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایشیا میں ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کی تعداد چار ہے لہذا ورلڈ کپ کی میزبانی کے موجودہ طریقۂ کار میں تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جگ موہن ڈالمیا کہتے ہیں کہ اگر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور زمبابوے کو ایک تصور کرتے ہیں اور انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کو الگ الگ ملک کے طور پر دیکھتے ہیں تو پھر ایشیا میں ورلڈ کپ ہر تیسری مرتبہ کھیلا جانا چاہیئے۔ جگ موہن ڈالمیا کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں بھارتی کرکٹ بورڈ نے پہل کرتے ہوئے آئی سی سی کو لکھا ہے اور ایشیئن کرکٹ کونسل کے پلیٹ فارم سے بھی ایک قرارداد تیار کی ہے جس کے تحت آئی سی سی کے آئندہ اجلاس میں درخواست پیش کی جائے گی کہ ورلڈ کپ 2007 کے بعد میزبانی کے طریقۂ کار کو تبدیل کیا جائے کیونکہ انہیں موجودہ طریق کار قبول نہیں۔ جگ موہن ڈالمیا کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ اپنی بات منوانے کا سلیقہ جانتے ہیں اور وہ ماضی میں بھی آئی سی سی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے جب میچ ریفری مائیک ڈینس نے چند بھارتی کھلاڑیوں کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ اس موقع پر کرکٹ دو حصوں میں تقسیم ہونے کے خطرے سے دوچار ہوگئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||