BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 January, 2004, 22:01 GMT 03:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی سی سی آئی: دکھ بھری یادیں

بی سی سی آئی
بی سی سی آئی کے ساتھ ہزاروں ایشیائی بھی بتاہ ہو گئی

برطانیہ میں رہنے والے ہزاروں ایشیائی باشندوں کے لیے بی سی سی آئی کا نام ایک ایسی یاد ہے جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔

یہ نہیں کہ وہ اس یاد سے پیچھا چھڑانا نہیں چاہتے، وہ چاہتے ہیں لیکن انہیں اس نام نے زندگی کے ان بد ترین تجربات سے دوچار کیا ہے جو ذہن سے محو ہی نہیں ہوتے۔

ایوانِ صنعت و تجارت ساؤتھ ہال کے چیئرمین منجیت لِت کہتے ہیں ’میں دسیوں لاکھ پاؤنڈ سے محروم ہو گیا۔ میں جائیدادوں کی خرید و فروخت کا کام کرتا تھا میں، اور میں نے اپنا سارا پیسہ اسی کام میں لگا رکھا تھا۔ میرا ایک ہی بینک تھا بی سی سی آئی، تمام رقوم اس میں جاتی اور اسی سے نکلتی تھیں۔‘

ساؤتھ ہال لندن کا وہ علاقہ ہے جسے مختلف ایشیائی برادریوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور ہے بھی۔

لاکھوں سے محروم ہونے والے اس پراپرٹی ڈیلر نے انیس سو اسی کی دہائی کے آخر میں بی سی سی آئی کی دہلیز پر قدم رکھا اور چند ہزار سے اپنا اکاونٹ کھولا لیکن پھر بینک کی مدد اور اپنی محنت سے انہوں نے اپنے کاروبار کو اتنی وسعت دی کہ بات لاکھوں کے لین دین تک جا پہنچی۔

دھماکہ خیز بندش

کسی کو کچھ پتہ نہیں چلا، ایک دن اچانک لندن میں بی سی سی آئی کے صدر دفتر پر پولیس اور تحقیقات کرنے والوں نے دھاوا بول دیا۔ آناً فاناً بی سی سی آئی کو بند کر دیا گیا اور اس کے معاملات قرقی کی کارروائی کرنے والوں کے حوالے کر دیے گئے۔

نام ظاہر نہ کرنے والے اس پراپرٹی ڈیلر کا کہنا ہے ’میں اس شام دفتر سے گھر پہنچا ہی تھا کہ مجھے فون آیا اور فون کرنے والے نے بتایا بینک کے دروازے بند ہو رہے ہیں۔‘

’میں نے پوچھا کب ؟ جواب ملا ’پندرہ منٹ میں۔‘ اور اس کے ساتھ ہی سب کچھ چلا گیا۔

دفتر سے نکلا تھا تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ رات تک میں ایک ایک پائی کا محتاج ہو جاؤں گا۔ میرے بینک اکاؤنٹ جامد کر دیے گئے۔ انہیں استعمال کرنا تو کجا میں ان کو چھو بھی نہیں سکتا تھا۔

بی سی سی آئی مالیاتی مارکیٹ کا کوئی بڑا بینک تو نہیں تھا لیکن وہ برطانوی ایشیائیوں میں اس کی ساکھ دوسرے بینکوں کے مقابلے میں بہت اچھی تھی۔ ان ایشیائیوں کا کہنا تھا کہ کم از کم ایک بینک تو ایسا تھا جو ان کی بات سنتا تھا اور ان کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں ان کی مدد کرتا تھا۔

شنوائی والا بینک

دہلی میں تعمیرات کی مہارت حاصل کرنے والے اس پراپرٹی ڈیلر کا کہنا ہے ’ہم منصوبے تیار کرتے تھے، بی سی سی آئی کے پاس لے کر جاتے تھے، وہ اسے دیکھتے تھے اور کہتے ٹھیک ہے، قابلِ عمل ہے منافع دے گا۔ اس کے منیجروں سے بات کرنا آسان ہوتا تھا جب کہ دوسرے بینک آسانی سے بات کرنے پر بھی تیار نہیں ہوتے تھے۔‘

کب کیا ہوا؟
انیس سو بہتر : بی سی سی آئی لکسمبرگ نے لندن میں اپنی شاخ کھولی
انیس سو پچاسی : بی سی سی آئی میں خساروں کی پہلی تحقیقات ہوئیں
انیس سو ستاسی: لکسمبرگ نے بی سی سی آئی کو ریگیولیٹ کرنے کے لیے کہا
انیس سو اٹھاسی: منی لانڈرنگ کے الزامات کے بعد بی سی سی آئی کی ٹامپا برانچ بند کر دی گئی
انیس سو نوے : پرائس واٹرہاؤس نے کہا کہ بی سی سی آئی کو بچنے کے لیے ایک ارب اسی کروڑ پاؤنڈ درکار ہیں
انیس سو اکیانوے: عالمی ضابطوں کے تحت بی سی سی آئی کو بند کر دیا گیا
انیس سو بانوے : بنگھام رپورٹ میں بی سی سی آئی کے حوالے سے بینک آف انگلینڈ کے کردار پر تنقید کی گئی
انیس سو تیرانوے: بینک کو تحلیل کرنے والوں نے بینک آف انگلینڈ کے خلاف رٹ دائر کی
دو ہزار چار: بینک آف انگلینڈ کے خلاف ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا گیا

بی سی سی آئی کو ایک پاکستانی بینکار آغا حسن عابدی نے قائم کیا تھا اور وہ ایشیائیوں کے کاروباری منصوبوں کو آگے بڑھانے میں ترجیح دیتے تھے۔

ایک اور تاجر مسٹر سنگھ نے بتایا ’ہمیں دوسرے برطانوی بینکوں سے وہ مدد نہیں ملتی تھی جو بی سی سی آئی سے ملتی تھی، وہ ہماری مدد کرتا تھا اس لیے ہم نے اپنا سب کچھ اس میں لگا دیا۔‘

مالیاتی مشکلات

بی سی سی آئی کے برطانیہ میں چھ ہزار پانچ سو کے لگ بھگ اکاؤنٹ ہولڈر یا کھاتےدار تھے اور ان کی اکثریت بھارتیوں، بنگلہ دیشیوں اور پاکستانیوں کی تھی۔

یہ کم و بیش سب کے سب ایسے تھے جو بی سی سی آئی سے قرض لیتے اور کاروبار کرتے تھے۔

ان میں سے پراپرٹی کا کاروبار کرنے والے نے بتایا کہ جب بینک بند کیا گیا اور اس کے اکاؤنٹ جامد کیے گئے اس وقت اس کا ایک منصوبہ بالکل مکمل ہو چکا تھا۔ یہ ایک ویئر ہاؤس تھا اور اسے بینک کے تیرہ لاکھ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری سے خریدا گیا تھا اور اس پر اس کے اپنے بھی دس لاکھ پاؤنڈ لگے ہوئے تھے اور اسے امید تھی کہ بہت آرام سے تیس لاکھ پاؤنڈ کی واپسی ہو گی۔

ویئر ہاؤس کو چھ یونٹوں میں تبدیل کیا گیا تھا اور منصوبہ بالکل سو فیصد مکمل تھا۔ لیکن سب رکھا رہ گیا اور اس سے یہی نہیں ہوا کے صرف یہ منصوبہ ہی گیا بلکہ اس ساتھ ساتھ اس کے تمام دوسرے منصوبے تباہ ہو گئے۔

انہوں نے بتایا ’چھ مہینے کے اندر اندر سب کچھ بدل گیا اور میں خود کو دیوالیہ قرار دینے پر مجبور ہو گیا۔‘

بی سی سی آئی
برطانیہ میں ایشیائیوں کے ہزاروں چھوٹے کاروبار تباہ ہو گئے

اس میں ان کا ایک تھری اسٹار ہوٹل بھی شامل تھا اور ان کا ذاتی گھر بھی۔ جو سب کا سب دیوالیہ کی نظر ہو گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ اپنی بچیوں کے تعلیمی اخراجات تک ادا کرنے کے قابل بھی نہ رہے۔

جب وہ دیوالیہ ہو گئے تو ان کا یہ حق بھی جاتا رہا کہ وہ بی سی سی آئی کے اکاؤنٹ میں رکھے ہوئے پیسوں کے معاوضے کے بارے میں کوئی دعویٰ کر سکتے۔

اس کے علاوہ برطانوی قانون کے تحت وہ کسی بھی بینک سے چھ سال تک کوئی قرض حاصل نہیں کر سکتے تھے۔

اب بی سی سی آئی کے کھاتے داروں کی طرف سے بینک آف انگلینڈ پر ایک ارب کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا ہے۔ یہ دعویٰ ’ڈیلوئٹ ٹوش‘ کی جانب سے دائر کیا گیا ہے۔

ڈیلوئٹ ٹوش نے اب تک ان کھاتے داروں کو جن کے بینک میں بیس ہزار پاؤنڈ تک جمع تھے پچھتر فی صد تک رقم ادا کی ہے اور اب اگر یہ ادارہ بینک آف انگلینڈ سے ہرجانہ وصول کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو کھاتے داروں کو مزید کچھ رقوم حاصل ہو جائیں گی۔

لیکن ان پراپرٹی ڈیلر کو، جو اب اپنی اہلیہ کی ڈرائی کلینگ کی دکان میں کام کرتے ہیں یا ان جیسے دوسرے کھاتے داروں کو کچھ نہیں ملے گا جو دیوالیہ ہو گئے تھے۔

بی سی سی آئی کے بند ہونے یا ختم ہونے سے صرف برطانیہ ہی میں اس کے کھاتے دار متاثر نہیں ہوئے بلکہ بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان میں بھی لاکھوں لوگ متاثر ہوئے جو اس بینک کے کھاتے داروں کے عزیز و اقرباء تھے یا ان کے حوالے سے دوسرے کام کرتے تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد