نٹورسنگھ - صدر مشرف ملاقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے جمعہ کو بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ سے ستر منٹ طویل ملاقات کی جس میں کشمیر سمیت تمام متنازع امور پر بات ہوئی۔ صدر مشرف کے ساتھ نٹور سنگھ کی اس ملاقات میں جو راولپنڈی میں آرمی ہاؤس میں ہوئی دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹری، سفیروں اور وزراتِ خارجہ کے حکام نے بھی شرکت کی۔ ملاقات کے بعد صدر کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر نے بھارتی وزیرِ خارجہ کو بتایا کہ پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کو کامیاب بنانا چاہتا ہے۔ صدر مشرف نے کہا کہ وہ کشمیر سمیت سب امور پر کامیاب مذاکرات کے خواہاں ہیں۔ اسلام آباد میں بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار ادریس بختیار نے اطلاع دی ہے کہ نٹور سنگھ نے ملاقات کے بعد اخبار نوسیوں کو بتایا کہ صدر مشرف سے بات چیت کے دوران کشمیر سمیت تمام متنازع امور زیر بحث آئے۔ انہوں نے کہا دونوں ملکوں نے ایک بار پھر پرامن اور تشدد سے پاک ماحول میں بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے اور دہشت گردی کی لعنت سے نپٹنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ نامہ نگاروں کے مطابق صدر مشرف کی نٹور سنگھ سے اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں تھی۔ تاہم اس ملاقات سے صدر مشرف کو بھارت میں کانگریس کی حکومت کے وزیر خارجہ سے ملاقات کا پہلا موقع ملا۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان دسمبر دو ہزار دو میں بھارتی پارلیمان پر حملے کے بعد تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے اور بھارت نے پاکستان سے اپنا سفیر بھی واپس بلا لیا تھا۔ اس حملے کے بعد بھارت نے بڑی تعداد میں اپنی فوجوں کو پاکستان کی سرحد کے ساتھ تعینات کر دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||