BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 June, 2004, 17:14 GMT 22:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مستقبل میں مارشل لاء نہیں‘

صدر مشرف
صدر کا کہنا ہے کہ اندرونی سلامتی کی صورتحال نازک ہے
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے نیشنل سیکورٹی کونسل کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کونسل کے قیام کے بعد مستقبل میں کوئی آرمی چیف مارشل لا نہیں لگا سکے گا اور غیر آئینی مداخلت سے بھی بچا جا سکے گا۔

ان کے بقول کونسل میں طاقت کے تمام مراکز کے نمائندگان شامل ہیں اور وہ نہ صرف کھل کر رائے کا اظہار کرسکیں گے بلکہ ایک دوسرے کی کارکردگی پر نظر بھی رکھ سکیں گے۔

صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کوئی بیرونی خطرہ نہیں بلکہ اندرونی سلامتی کی صورتحال نازک ہے۔ ان کے مطابق فرقہ واریت ، شدت پسندی اور انتہا پسندی کو روکنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کسی مذموم مقصد کو حاصل کرنے کے لئے یا ان کی ذات کے تحفظ کے لئے قائم نہیں کی گئی ہے۔ بلکہ ان کا دعویٰ تھا کہ اس کونسل کے ذریعے صدر کی طرف سے اختیارات کے ناجائز استعال کی روک تھام ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ایسا کوئی اہم ادارہ موجود نہیں تھا جس میں حکومت ، فوج ، صوبائی سربراہ اور حزب اختلاف جیسے اہم ریاستی عہدیدار اسٹریٹجک معاملات پر بحث کر سکیں اور ایک دوسرے پر کی کارکردگی پر نظر رکھ سکیں ۔

ان کا دعویٰ تھا کہ قومی مفاد میں یہ کونسل تشکیل دی گئی ہے جو کہ ان کے بقول صرف اور صرف مشاورتی فورم ہے اور ان کے مطابق یہ کونسل پارلیمینٹ سے بالاتر ہرگز نہیں ہے۔

جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ مجلس عمل نے نیشنل سیکورٹی کونسل کی تشکیل کی حمایت کی تھی لیکن انہوں نے جہاں قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن کی شرکت پر افسوس ظاہر کیا وہاں صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ کی عدم شرکت پر سخت برہمی بھی ظاہر کی ہے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کے آئندہ اجلاس میں وہ ایسا نہیں کریں گے۔

وزیراعلیٰ سرحد کے بارے میں صدر کا سخت لہجے میں کہنا تھا کہ انہیں سخت اعتراض ہے کہ وزیراعلیٰ شریک نہیں ہوئے کیونکہ وہ حکومتی نمائندے ہیں اور انہیں یہاں ضرور ہونا چاہیئے تھا ۔

اجلاس میں کو کونسل کے سیکریٹری طارق عزیز نے قوائد و ضوابط ، دائرہ کار اور ذمہ داریوں کے متعلق بریفنگ بھی دی۔

سرکاری ترجمان کے جاری کردہ بیان کے مطابق کونسل کے افتتاحی اجلاس میں ملک میں امن امان کی صورتحال کو بہتر بنانے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے رابطے کو مؤثر بنانے کے لیے سفارشات بھی مرتب کی گئی ہیں جو عمل درآمد کے لئے حکومت کو بھیجی جائیں گی۔

تیرہ رکنی اس کونسل کے سربراہ صدر مملکت ہیں جبکہ وزیراعظم ، چیئرمین سینیٹ ، اسپیکر قومی اسمبلی، چاروں وزراء اعلیٰ ، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ، تینوں مسلح افواج، بری ، بحری اور فضائیہ کے سربراہان اس کونسل کے اراکین ہیں۔

اجلاس میں قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن ، صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ نے احتجاجی طور پر جبکہ سینیٹ کے چیئرمین محمد میاں سومرو ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ، وفاقی وزیر خارجہ، سندھ اور سرحد کے گورنرز اور نائب آرمی چیف نے خصوصی دعوت پر شرکت کی۔

ترجمان کے مطابق وزیر داخلہ نے سلامتی کی صورتحال ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیش رفت ، رکاوٹوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کے ساتھ سفارشات بھی پیش کیں۔

واضح رہے کہ حزب اختلاف کے رہنما شروع سے کہتے رہے ہیں کہ اس کونسل کے قیام سے فوج کو سیاست میں مستقل اور قانونی کردار ملنے سے پارلیمینٹ کی حیثیت ثانوی ہوجائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد