’منفی پروپیگنڈا ہو رہا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے وزراۓ خارجہ نے امن کے سلسلہ کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہےاور اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ امن کے عمل کو نقصان پہنچانے کے لیے دونوں اطراف کے بعض حلقوں کی جانب سے جان بوجھ کر منفی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ اتوار کوبھارت کے وزیر خارجہ نٹور سنگھ اور پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیااور اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کا جو عمل شروع ہوا ہے اسے جاری رکھا جاۓ گا۔ تین دن کے اندر دونوں وزرائے خارجہ نے تیسری بار ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنے بھارتی ہم منصب سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں بتایا۔ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ نٹور سنگھ نے اپنے حوالے سے اخبارات میں شائع ہونے والے بیانات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان سے یہ بیانات غلط طور پر منسوب کیے گئے ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ کے حوالے سے اتوار کو پاکستان کے مقامی اخبارات میں ایک ایسا بیان شائع ہوا ہے جس کے مطابق انہوں نےپاکستان پر دراندازی کے الزامات عائد کیےتھے اور کہا تھا کہ بھارت کو لہو لہان کرنے کی پاکستان کی پالیسی کامیاب نہیں ہوگی۔ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ نٹور سنگھ نے اس بیان کی تردید کرتے ہوۓ کہا ہے کہ بھارت پاکستان سے دیرپا اچھے تعلقات قائم کرنے کا عزم کیے ہوۓ ہے۔ نٹور سنگھ نے انہیں کہا کہ پاکستان میں ان کے بہت سے دوست ہیں اور پاکستان بھارت تعلقات کی بہتری دونوں کے ’ذاتی مفاد‘ میں ہے۔ بقول مسٹر قصوری نٹور سنگھ نے کہا کہ وہ پاکستان کے صدر اور وزیر خارجہ کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ان کی مختلف مواقع پر اپنے بھارتی ہم منصب سے ایک سے زائد ملاقاتیں ہونگی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت زمینی حقائق سے صرف نظر نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی اور میزائل طاقت ہیں۔ مسٹر قصوری کا کہنا تھا کہ دونوں اتنے بڑے ملک ہیں کہ ایک دوسرے پر اپنے فیصلے نہیں تھوپ سکتے اور نہ ہی جنگ کے ذریعے کسی دوسرے پر فیصلے تھوپے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسائل صرف بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے پاکستان کے اس موقف کو دہرایا کہ دیرپا امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نٹور سنگھ نے انہیں جب فون کیا تو ایک شعر سنایا جو یوں ہے: کچھ نہیں تو کم سے کم خواب سحر دیکھا تو ہے |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||