’دولت مشترکہ کی تنقید بلاجواز‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے دولت مشترکہ کے سیکریٹری جنرل کے اس بیان کو بلاجواز اور غیر ضروری قرار دیا ہے جس میں انہوں نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور سترہویں آئینی ترمیم پر عمل درآمد کرانے کا ذکر کیا تھا۔ سنیچر کو لندن میں دولت مشترکہ کے اجلاس کے بعد اخباری کانفرنس میں تنظیم کے سیکریٹری جنرل ڈان میکنن نے کہا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ سال کے آخر میں دو عہدوں میں سے کوئی ایک چھوڑنے کا جو وعدہ کیا تھا اس پر عمل کرتے ہوئے فوجی وردی اتار دیں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے اتوار کو جاری کردہ بیان میں پاکستان کی دولت مشترکہ میں رکنیت کی بحالی کا خیر مقدم کیا ہے لیکن ساتھ ہی تنقید بھی کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ کامن ویلتھ منسٹیریل ایکشن گروپ، کی جانب سے سترہویں آئینی ترمیم اور دیگر آئینی معاملات کا حوالہ بلاجواز اور غیر ضروری ہے اور اس ضمن میں بیرونی شرائط قابل قبول نہیں۔‘ ترجمان نے الزام لگایا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ دولت مشترکہ کے سیکریٹری جنرل کو بعض رکن ممالک اور سیاسی عناصر نے گمراہ کیا ہے، اور یہ امر ان کے لئے افسوس ناک ہے کیونکہ جو باتیں کہی گئی ہیں ان کا پاکستان کی رکنیت کی بحالی سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ دولت مشترکہ کے جن ممالک کے کہنے پر سیکریٹری جنرل نے پاکستان میں جمہوریت اور صدر مشرف کے متعلق باتیں کی ہیں انہیں خود اپنے جمہوری معیارات کو بہتر بنانے کی سخت ضرورت ہے ۔ ترجمان نے زور دیا ہے کہ دولت مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت کی بحالی کے بعد اب دونوں کو سیاسی اور اقتصادی تعاون کے نئے دور کا آغاز کرنا چاہئے۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ بدستور جدید، روشن خیال اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عوام کی خواہشات کے مطابق دنیا میں اہم کردار ادا کرنے کے لئے کام کرتے رہیں گے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رکنیت کی بحالی سے پاکستان کے اس عہد اور اصولی موقف کی تائید ہوتی ہے جو ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرنے کے متعلق ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان میں اقلیتوں اور خواتین کو قانون ساز اداروں میں نمائندگی دی گئی ہے اور میڈیا بھی آزاد ہے۔ واضع رہے کہ سنیچر کو لندن میں ہونے والے دولت مشترکہ کے وزارتی اجلاس میں پاکستان کی معطل رکنیت اس شرط پر بحال کی گئی تھی کہ سترہویں آئینی ترمیم کے مطابق رواں سال کے آخر میں صدر مشرف فوجی وردی اتار دیں۔ دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت سن انیس سو ننانوے میں اس وقت معطل کی تھی جب جنرل پرویز مشرف نے بغیر خون خرابے کے فوجی مداخلت کے ذریعے ایک منتخب حکومت ختم کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||