پشاور:صحافی کی گرفتاری پر احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختلف صحافتی تنظیموں نے منگل کو صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں پاکستانی خفیہ اداروں کی جانب سے گزشتہ تین ہفتوں سے ایک افغان صحافی اور اس کے ڈرائیور کو حراست میں رکھنے کے خلاف احتجاج کیا۔ پشاور پریس کلب کے سامنے ہونے والے اِس مظاہرے میں ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور کارکنوں نے اِن حراستوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افغان صحافی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خفیہ اداروں اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔ امریکی ہفت روزہ میگزین ’نیوز ویک‘ کے لئے کام کرنے والے سمیع یوسفزئی کو ایک امریکی خاتون صحافی الیزا گرسوڈ کے ہمراہ شمالی وزیرستان جاتے ہوئے اکیس اپریل کو بنوں کے قریب حراست میں لیا گیا تھا۔ بتیس سالہ افغان صحافی سمیع یوسفزئی کے چچا زاد عبداللہ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ انہیں اور سمیع یوسفزئی کی بیوی بچوں کو اس کے بارے میں تین ہفتوں سے کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے سلسلے میں افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں ہیں۔ امریکی صحافی کو جو ہفت روزہ ’نیویارکر‘ کے لئے کام کرتی تھیں خفیہ اداروں نے مختصر مدت کے لئے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا البتہ سمیع اور ان کے ڈرائیور سلیم خان کو ابھی تک نامعلوم مقام پر رکھا جا رہا ہے۔ سمیع یوسفزئی نے اس سے قبل مختصر مدت کے لئے بی بی سی پشتو سروس کے علاوہ پاکستانی انگریزی روزنامے ’دی نیوز‘ کے لئے بھی کام کیا ہے۔ کئی بین الاقوامی، قومی اور مقامی صحافتی اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے اس حراست پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر سمیع کسی جرم میں ملوث ہیں تو ان کہ خلاف فوراً عدالتی کارروائی شروع کی جائے۔ لیکن اس تمام واویلا پر ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ گزشتہ دِنوں صوبہ بلوچستان میں بھی دو فرانسیسی صحافیوں اور ان کے پاکستانی ساتھی خاور مہدی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ غیرملکی صحافیوں کو تو فوری طور پر رہا کر دیا گیا تھا البتہ پاکستانی کو کئی ماہ تک جیل میں رکھنے کے بعد کچھ عرصہ پہلے عدالت نے ضمانت پر رہا کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||