| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
تامل ناڈو: اخبارنویس روپوش
بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں حزب اختلاف کی جماعتوں اور اخبارنویسوں کی تنظیموں نے ’دی ہندو‘ اخبار کے چھ صحافیوں اور ریاستی اسمبلی کے سابق سپیکر کی گرفتاری کے احکامات جاری ہونے کی مذمت کی ہے۔ ان صحافیوں کی گرفتاری کے احکامات ریاستی اسمبلی کے سپیکر نے ایوان میں جمعہ کو ایوان کا استحقاق مجروح کرنے کے جرم میں جاری کئے تھے۔ ان صحافیوں پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایوان کی کارروائی پر اداریہ لکھ کرایوان کا استحقاق مجروح کیا ہے۔ تاہم ان صحافیوں کوا بھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ بی بی سی کے نامہ نگار سمپتھ کمار نے تامل ناڈو سے اطلاع دی ہے کہ صحافیوں نے ریاست کے مختلف مقامات پر احتجاج کیا اور یہ مطالبہ کیا کہ گرفتاری کے لیے جاری کئے جانے والے احکامات کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ انہوں نے ریاست بھر میں اتوار کو بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کی بھی دھمکی دی۔ حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں نے ریاستی اسمبلی کے ان احکامات کو آزادیِ صحافت کے خلاف قرار دیا ہے۔ ایک مقامی اخبار کے مدیر کو بھی پندرہ دن قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس اخبار نے ’دی ہندو‘ اخبار میں چھپنے والے اس اداریہ کو دوبارہ شائع کیا تھا۔ ان چھ افراد پر اسمبلی کا استحقاق مجروح کرنے اور ریاست کی وزیر اعلیٰ کی کردار کشی کا الزام عائد کیا گیاہے۔ دی ہندو اخبار کے مدیر این رام نے کہا کہ ان کے اخبار میں کوئی قابل اعتراض چیز شائع نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا جن الفاظ ہر اعتراض کیا گیا ہے وہ ریاست کی وزیرِ اعلیٰ جے للیتا کی تقریر کی منظر کشی کرنے کے لیے استعمال کئے گئے تھے۔ مقامی اخبار نویسوں کا کہنا ہے کہ جب سے جے للیتا کی جماعت بر سرِ اقتدار آئی ہے بہت سے مقامی اخبارات پر مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔ ہندو اخبار بھی ہتک عزت کے سولہ مقدمات کا پہلے ہی سامنا کر رہا ہے۔ دلی میں پریس کانسل آف انڈیا نے بھی جے للیتا کی حکومت کی مذمت کی۔ اخبارنویسوں نے ایک احتجاجی ریلی میں جے للیتا کے پتلے کو آگ لگائی۔ انہوں نےکہا کہ وہ تامل ناڈو کے گورنر کو ایک احتجاجی مراسلہ ارسال کریں گے جس میں ان سے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||