پشاوری موسیقار کون سی دُھن بجائیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پہلے سرکار کی اور اب مقامی آبادی کی نفرت کا شکار پشاور کے گویّے اور موسیقار آج کل پھر مشکل میں گرفتار ہوگئے ہیں۔ اس مرتبہ وہ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کے نہیں بلکہ ڈبگری بازار کے تاجروں اور رہائشیوں کے زیر عتاب ہیں جنہوں نے انہیں علاقہ بدر کرنے کے لئے ایک تحریک شروع کر دی ہے۔ پاکستان کےن قدیم شہروں میں موسیقی کے لیے مخصوص علاقوں کی طرح پشاور میں ڈبگری بھی موسیقی اور گائیکی کے فن سے منسلک افراد کا برسوں پرانا گڑھ رہا ہے۔ اس مصروف بازار کے بالاخانوں میں بیٹھے یہ فنکار معاشرے کے غریب طبقے کے لئے تفریح اور شادی بیاہ میں رنگ بھرنے جیسے کام کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب آبادی بڑھی اور شہر پھیلا تو یہی فنکار اسی بازار میں اقلیت میں تبدیل ہوگئے۔ گذشتہ برس متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے ان فنکاروں کو اپنے بالا خانوں کی کھڑکیاں بند رکھنے کا حکم دیا لیکن بعد میں ذرائع ابلاغ میں واویلا کے بعد حکومت نے خاموشی اختیار کر لی تھی۔
باتاسی پر ختم نہیں ہوئی بلکہ اب مقامی تاجروں اور رہائشیوں نے ان کو بے دخل کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ ان کے خلاف قائم کی گئی ’نجات فحاشی تحریک ‘ کے سربراہ محمد ظاہر شاہ نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’یہ کنجر ڈوم لوگ اب اپنے دائرے سے نکل کر فحاشی پر اتر آئے ہیں۔ وہ رات کو گاڑیوں میں گزرنے والوں سے پوچھتے نظر آتے ہیں کہ آپ کو لڑکی چاہیے یا لڑکا۔ یہ ہم جنس پرستی میں ملوث ہیں۔ ہم انہیں اس علاقے سے نکال کر دم لیں گے۔ ہم اس علاقے کو مزید بدنام نہیں ہونے دیں گے۔‘
بازار میں تمام بالا خانے بند ہیں اور یہاں بیٹھے لوگ غائب۔ یہاں کام کرنے والے مثل خان کا کہنا تھا کہ احتجاج بلا جواز ہے۔ ’ہم بھی دیگر دکانداروں کی طرح گاہک کا انتظار کرتے ہیں اور پھر ان کے ساتھ چلے جاتے ہیں۔ یہاں تو کچھ نہیں ہوتا۔‘ ان فنکاروں کے خلاف احتجاج میں مقامی ناظم محمد اقبال بھی موجود تھے۔ وہ بھی نالاں نظر آئے۔ ان سے پوچھا کہ وہ اس مسئلہ کے حل کے لئے کیا کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلی سرحد سے ملے ہیں جنہوں نےپشاور کے ناظم کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ مسئلے کا کوئی حل نکالا جا سکے۔ لیکن بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود اس کمیٹی کا کام مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر سڑک پر نکل آئے ہیں۔ صوبہ سرحد کے معاشرے میں موسیقی سے تو رغبت رکھی جاتی ہے لیکن شاید موسقیاروں سے نہیں ان فنکاروں کے حالات کبھی بھی سازگار نہیں رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||