’دہشتگردی مخالف جنگ کا نتیجہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ سانحہ کوئٹہ میں القائدہ کے ملوث ہونے کی بات ابھی قبل از وقت ہے، بظاہر یہ فرقہ وارانہ واردات معلوم ہوتی ہے تاہم کوئٹہ کے ساتھ ہی افغانستان کی سرحد بھی لگتی ہے اس لیے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ بات انہوں نے لاہور میں اے آر ڈی کے رہنما منیر احمد خان کی رہائش گاہ اور رائے ونڈ روڈ پر ایک تعلیمی ادارے میں دو الگ الگ تقریبات کے دوران اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں افغانیوں کے علاوہ دیگر عناصر بھی ہیں۔ انہوں نے کہا ’ہم نے امریکہ سے کہا ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی بڑھائی جائے کیونکہ وہاں حالات غیر مستحکم ہیں جس کے منفی اثرات پاکستان پر بھی پڑ سکتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’کوئٹہ کا سانحہ ، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کا ایک ردعمل ہے، دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ساتھ دینے کے نتیجہ میں یہاں خودکش حملوں کی شکل میں ایک نئی طرح کی دہشت گردی شروع ہوگئی ہے۔‘ وانا کی طرز پر بلوچستان میں آپریشن شروع کرنے کے امکان کے بارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ’ وانا کے معاملات کچھ اور ہیں جبکہ بلوچستان کے عناصر اپنی نوعیت کے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ملک بھر میں خصوصی مہم شروع کی جارہی ہے اور یہ آپریشن سرحدوں پر بھی ہوگا اور سرحد کے اندر بھی، اور اس کا مقصد دہشت گردی کے نیٹ ورک کو توڑنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے اس نیٹ ورک میں انتہا پسند بھی شامل ہیں اور فرقہ وارانہ دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا مغربی ذرائع ابلاغ ہر ایک دو ماہ کے بعد اس طرح کا پراپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن اگرچہ مرکزی کردار ہیں لیکن پھر بھی اسامہ بن لادن اگر پکڑے گئے تو تب بھی پاکستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمہ تک آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سانحہ کوئٹہ کی الگ الگ تین انکوائریاں ہو رہی ہیں جن کی رپورٹ ایوان میں بھی پیش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملوں کے چند ملزم گرفتار ہو چکے ہیں اور باقیوں کی بھی نشاندہی ہوچکی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملہ کی تہہ تک پہنچ چکےہیں تاہم ابھی ان عناصر کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||