BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 November, 2003, 21:20 GMT 02:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کورٹ نے وضاحت طلب کرلی

میمونہ ہاشمی
حبس بے جا کا مقدمہ جاوید ہاشمی کی بیٹی میمونہ ہاشمی نے دائر کیا ہے

لاہور ہائی کورٹ کی راولپنڈی بینچ کے جج جسٹس منصور احمد نے اے آر ڈی کے صدر جاوید ہاشمی کی گرفتاری سے متعلق اسلام آباد پولیس سے وضاحت طلب کرلی ہے۔

ادھر وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آر ڈی کے دوسرے رہنماؤں کے خلاف بھی مبینہ خط کے سلسلے میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔

عدالت نے ایس ایس پی اسلام آباد اور ایس ایچ او تھانہ سیکریٹریٹ کو منگل چار نومبر کو عدالت میں پیش ہوکر جواب دینے کیلئے نوٹس بھی جاری کردیئے ہیں۔

جسٹس منصور احمد نے پیر کے روز جاوید ہاشمی کی بیٹی میمونہ جاوید ہاشمی کی حبس بے جا کی درخواست کی سماعت شروع کی تو انکی وکالت کے لئے سینیئر ایڈوکیٹ بیریسٹر اعتزاز احسن اور سید ظفر علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔

اس موقعہ پر درخواست گزار میمونہ ہاشمی کے علاوہ مسلم لیگ کے بیشتر مرکزی رہنما بشمول راجہ ظفرالحق اور سرانجام خان بھی موجود تھے۔

عدالت نے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 491 کے تحت دائر کردہ حبس بے جا کی درخواست کی ابتدائی مختصر سماعت کے بعد ایس ایس پی اسلام آباد اور ایس ایچ او کو منگل کے روز پیش ہوکر جواب دینے کیلئے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے جس میں پولیس سے کہا گیا ہے کہ وہ وضاحت کرے کہ جاوید ہاشمی کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں کہاں رکھا گیا ہےـ

واضع رہے کہ مبینہ بغاوت کے الزام کے تحت اے آرڈی کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی کو 29 اکتوبر کی رات ساڑھے دس بجے گرفتار کیا گیا تھا اور اب تک ان سے نہ کسی وکیل کو ملنے کی اجازت دی گئی ہے نہ ہی خاندان کے کسی فرد کو۔

ان کی بیٹی میمونہ جاوید ہاشمی نے یکم نومبر بروز ہفتہ لاہور ہائی کورٹ میں پیٹیشن داخل کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے والد کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

جاوید ہاشمی پر الزام ہے کہ انہوں نے فوج میں اختلافات پیدا کرنے کے لئے بیس اکتوبر کو پارلیمنٹ کے کیفے ٹیریا میں ایک خط پریس کانفرنس میں جاری کیا تھا۔

علاوہ ازیں مخدوم جاوید ہاشمی کے وکیل سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ ان کے مؤکل کو 30 اکتوبر کو ریمانڈ کیلئے پیش کرنا لازمی تھا اور وہ کچہری میں رات ساڑھے آٹھ بجے تک انتظار کرتے رہے جبکہ پولیس نے ریمانڈ کیلئے جاوید ہاشمی کو پیش نہیں کیا۔

ظفر علی شاہ نے کہا کہ وہ دعوٰی سے کہتے ہیں کہ پولیس نے ریمانڈ عدالت میں آکر نہیں لیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ 30 اکتوبر کو سول جج اسلم گوندل کے پاس گئے تھے انہیں کہا تھا کہ انکو سنے بغیر ریمانڈ نہ دیا جائے لیکن ان کو اس حق سے محروم کر دیا گیا۔

جاوید ہاشمی کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منگل چار نومبر کو ختم ہوگا اور امکان ہے کہ پولیس انکا مزید ریمانڈ لےگی۔

ادھر پیر کے روز جب وفاقی وزیر داخلہ فیصل صالح حیات سے صحافیوں نے دریافت کیا کہ جب جاوید ہاشمی نے خط جاری کیا تھا اس وقت پریس کانفرنس میں دیگر رہنما بھی موجود تھے اور اے آر ڈی نے یہ خط باضابطہ طور پر جاری کرنے کا کہا تھا۔ کیا حکومت دیگر رہنماؤں کے خلاف بھی کارروائی کرے گی تو فیصل صالح حیات نے کہا کہ ابھی جاوید ہاشمی سے تفتیش ہورہی ہے اور ضرورت پڑی تو قانون کے مطابق دیگر رہنماؤں کےخلاف بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد