’براہمداغ آئین کو ماننے پر راضی تھے‘

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان رپبلکن پارٹی کے سربراہ براہمداغ بگٹی پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنے اور سکیورٹی کو چیلنج نہ کرنے پر راضی ہو چکے تھے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ یہ مذاکرات بڑا موقع تھا جس کو ’ہم سب‘ نے گنوا دیا۔

سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے گذشتہ برس جنیوا میں براہمداغ بگٹی سے مذاکرات کیے تھے۔

نواب اکبر بگٹی کے پوتے اور بلوچستان کی آزادی کے خواہشمند رہنما براہمداغ بگٹی ان دنوں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور حال ہی میں انھوں نے بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے۔

بھارت نے حال ہی میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا تھا۔

ادھر بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق کاکڑ نے بلوچ علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح سے بھارت سے مدد طلب کی گئی اور نریندر مودی کو خوش آمدید کہا گیا ہے کہ اس سے سیاسی جماعتوں کے پاس موجود جلاوطنی رہنماؤں کے لیے نرم گوشہ کم ہو گیا ہے۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان نے کہا: ’مذاکرات صوبائی کابینہ کا فیصلہ تھا یہ صرف ڈاکٹر عبدالمالک کا انفرادی فیصلہ نہیں تھا۔‘

جلاوطن بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت کی رضامندی شامل تھی: ڈاکٹر مالک
،تصویر کا کیپشنجلاوطن بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت کی رضامندی شامل تھی: ڈاکٹر مالک

یاد رہے کہ گذشتہ سال ڈاکٹر عبدالمالک اور قادر بلوچ نے یہ مذاکرات کیے تھے، جس کے بعد بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں براہمداغ بگٹی نے کہا تھا کہ اگر فوج اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے اپنا ذہن بدل لیا ہے اور وہ بلوچستان میں آپریشن روک کر سیاسی طریقے سے مسئلے کا حل نکالنا چاہتے ہیں تو وہ بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ایک خصوصی انٹرویو میں بی بی سی اردو کو بتایا کہ جب انھوں نے عام انتخابات میں حصہ لیا تو ان کی یہ پالیسی تھی کہ بلوچستان کی شورش کو مذاکرات کے ذریعے سے حل کریں۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا: ’ہم نے حکومت میں آنے کے بعد مذاکرات کے لیے خان آف قلات اور براہمداغ بگٹی کو ٹارگٹ کیا، خان آف قلات کے پاس دو جرگے بھیجے۔ انھوں نے رضامندی ظاہر کی، اسی طرح مشترکہ دوستوں کی معاونت سے براہمداغ بگٹی سے رابطہ کیا وہ بھی مذاکرات پر راضی ہوگئے، اس سے میں نے میاں نواز شریف کو آگاہ کیا انھوں نے مجھے اور جنرل عبدالقادر بلوچ کو یہ ٹاسک دیا۔‘

ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا کہ حکومت کے صرف دو مطالبات تھے کہ وہ آئین پاکستان کو تسلیم کریں اور پاکستان کی سکیورٹی کو چیلنج نہ کریں۔’ان دونوں پر وہ راضی ہوگیا تھا۔‘

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے براہمداغ بگٹی کے مطالبات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا: ’براہمداغ بگٹی کے مطالبات خفیہ ہرگز نہیں تھے۔ کسی سٹیج پر براہمداغ بولےگا یا میں بولوں گا، لیکن یہ اتنے بڑے مطالبات نہیں تھے۔‘

یاد رہے کہ اس سے قبل نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر حاصل بزنجو نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ براہمداغ بگٹی اپنے دادا کے ساتھ پی پی ایل کے معاہدوں پر عمل درآمد اور ملازمتیں چاہتے تھے۔

براہمداغ بگٹی کے مطالبات خفیہ ہرگز نہیں تھے: ڈاکٹر مالک
،تصویر کا کیپشنبراہمداغ بگٹی کے مطالبات خفیہ ہرگز نہیں تھے: ڈاکٹر مالک

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ نواب اکبر بگٹی کے مطالبات بھی کوئی بڑے نہیں تھے، لیکن وہ ایک ڈکٹیٹر کی ضد تھی۔ ان کے مطابق جب بگٹی پر پہلا حملہ ہوا تو وہ ان کے پاس گئے تھے۔’وہ گیس اور ملازمتوں میں ڈیرہ بگٹی اور بلوچستان کے حصے کا مطالبہ کرتے تھے۔‘

’پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور او جی ڈی سی ایل نے فوج کے ایک سیکشن کو نواب صاحب کے خلاف اتنا اکسایا کہ وہ یہ طے کر چکے تھے کہ نواب بگٹی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا، جبکہ چوہدری شجاعت گواہ ہیں کہ بگٹی مذاکرات کے لیے راضی تھے۔‘

بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جلاوطن بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت کی مشاورت اور رضامندی شامل تھی کیونکہ عسکری قیادت کی رضامندی کے بغیر تو وہ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکتے تھے۔

’اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس میں ساری عسکری قیادت شریک تھی۔ جب ہم مذاکرات کے لیے جا رہے تھے تو اس میں میاں نواز شریف اور عسکری قیادت کی رضامندی شامل تھی۔ میں نے تو صرف پل کا کردار ادا کیا۔ آگے چل کر یہ مذاکرات ایک باقاعدہ ٹیم کو کرنے تھے جس میں وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور بلوچستان کے لوگوں کو شامل ہونا تھا۔‘

 اکبر بگٹی گیس اور ملازمتوں میں ڈیرہ بگٹی اور بلوچستان کے حصے کا مطالبہ کرتے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن اکبر بگٹی گیس اور ملازمتوں میں ڈیرہ بگٹی اور بلوچستان کے حصے کا مطالبہ کرتے تھے

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات ایک بڑا موقع تھا جو گنوا دیا گیا۔ وہ کہتے ہیں: ’مجھے لگ رہا ہے کہ بلوچستان کے حالات روز بروز مزید خراب ہوں گے۔‘

’براہمداغ بگٹی اور خان آف قلات کے بعد ہمیں دوسرے فریقین کے پاس جانا تھا۔ خان آف قلات بھی واپس آنے کو تیار تھا۔ خان نے کہا تھا کہ جس جرگے نے انھیں یہاں بھیجا تھا اگر وہ انھیں لینے آئے تو وہ واپس آنے کو تیار ہیں جس کے لیے سرواں اور جھالاواں کے چیف، نواب ایاز جوگیزئی اور پشتون قبائلی سرداروں پر مشتمل جرگہ بھیجنا تھا۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی زیر سربراہی ڈھائی سال تک نیشنل پارٹی کی بلوچستان پر حکومت رہی۔ مری میں ہونے والے معاہدے کے مطابق باقی کی مدت مسلم لیگ ن کے نواب ثنا اللہ زہری کی حکومت رہے گی۔ ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت کے بعد مذاکرات کا عمل بغیر کسی پالیسی بیان یا اعلان کے معطل کر دیا گیا۔

ڈاکٹر عبدالمالک کا کہنا ہے کہ انھیں معلوم نہیں ہے کہ مذاکرات کیوں آگے نہیں بڑھ سکے، تاہم بلوچستان اور پاکستان کے عوام کی یہ خواہش ہے کہ اس صورت حال کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے کیونکہ ’وہ بہت پٹ چکے ہیں۔‘

براہمداغ بگٹی اپنے دادا کے ساتھ پی پی ایل کے معاہدوں پر عمل درآمد اور ملازمتیں چاہتے تھے: سینیٹر حاصل بزنجو

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu

،تصویر کا کیپشنبراہمداغ بگٹی اپنے دادا کے ساتھ پی پی ایل کے معاہدوں پر عمل درآمد اور ملازمتیں چاہتے تھے: سینیٹر حاصل بزنجو

’بلوچستان کے تعلیمی ادارے برباد اور کاروبار ختم ہو چکا ہے، بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے، ایک غیر یقینی صورت حال ہے اگر ان سب مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکلے تو بہتر ہے۔‘

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے بقول بلوچستان اس وقت خانہ جنگی کا شکار ہے اگر کوئی کسی کے فکر سے مطابقت نہیں رکھتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ یہ آزادی دشمن ہے اور وہ موت کا حقدار ہے۔ اس لیے آنے والے دور میں مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔

ڈاکٹر عبدالمالک نے تسلیم کیا کہ جلاوطن بلوچ رہنماؤں کی واپسی کے وہ ضامن نہیں بن سکتے تھے یہ کام وفاقی حکومت نے کرنا تھا۔ ’میں تو ایک عام آدمی ہوں میں تو کسی کا ضامن نہیں بن سکتا، ضمانت بھی انھیں ہی دینا تھی کیونکہ اس سے پہلے بھی جنگیں ہوئیں اور لوگ واپس بھی آئے انھیں کچھ نہیں ہوا۔‘