’بلوچستان میں عسکریت پسندی کی حمایت میں کمی آئی ہے‘

،تصویر کا ذریعہBBC Urdu
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
بلوچستان کے نمایاں سیاستدان اور نیشنل پارٹی کےسربراہ میر حاصل خان بزنجو نے کہا ہے کہ بلوچستان میں عسکریت پسندی کی حمایت میں واضح کمی ہوئی ہے۔
بی بی سی اردو کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں میر حاصل خان بزنجو نے کہا کہ بلوچستان میں ایک عشرہ پہلے عسکریت پسندی کو جو حمایت حاصل تھی اس میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔
٭ <link type="page"><caption> ’بگٹی کے بعد روایتی سیاست دفن ہوگئی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160826_akbar_bugti_10_years_hk" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> اکبر بگٹی کی ہلاکت سے ’خرابی میں اضافہ ہوا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160826_akbar_bugti_ten_years_sh" platform="highweb"/></link>
انھوں نے کہا: ’اب تو ریاست سے لڑائی ہو ہی نہیں رہی ہے۔ اب تو لڑائی برادر کشی میں بدل چکی ہے۔ اب زیادہ تر لڑائی بلوچوں کے مابین ہو رہی ہے۔‘
ناراض بلوچوں سے مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں میر حاصل بزنجو نے کہا کہ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدل مالک اور وفاقی وزیر جنرل ریٹائرڈ عبد القادر بلوچ وزیر اعظم نواز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف کی رضامندی ناراض بلوچوں سے ملاقات کے لیے بیرون ملک گئے تھے۔
میر حاصل بزنجو نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی سے کئی ملاقاتیں ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیشنل پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ براہمداغ بگٹی کےمطالبات میں کچھ بھی ایسا نہیں تھا جو پاکستانی ریاست مان نہیں سکتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ براہمداغ بگٹی اپنے دادا کے ساتھ حکومت پاکستان کے معاہدوں پر عمل درآمد اور پی پی ایل میں نوکریاں چاہتے تھے۔
میر حاصل بزنجوں نے کہا کہ وطن واپس پہنچ کر ڈاکٹر عبدل مالک اور قادر بلوچ نے وزیر اعظم نواز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سے ملاقاتیں کیں اور انھیں براہمداغ بگٹی کے مطالبات دکھائے۔
انھوں نےکہا کہ دونوں وزیر اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف ان مطالبات کو ماننے پر رضامند تھے۔ میر حاصل بزنجو نے کہا کہ جب سے بلوچستان میں ان کی جماعت کی حکومت ختم ہوئی ہے انھیں نہیں معلوم کہ براہمداغ بگٹی کےساتھ ہونے والے مذاکرات کس مرحلے میں ہیں۔

بلوچستان کےحقوق کےلیےاعلان کردہ ’آغاز حقوق بلوچستان‘ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ جب رضا ربانی اس کمیٹی کے سربراہ تھے تو کچھ اچھا کام شروع ہو چکا تھا لیکن جب رحمان ملک کو اس کا چیئرمین بنایا گیا تو وہ اپنی افادیت کھو چکا تھا۔
انھوں نے کہا : ’ہمارا اس وقت بھی خدشہ تھا کہ لاپتہ افراد اورگولیوں سے چھیلنی لاشوں کا مسئلہ حل نہیں گا۔‘ انھوں نے کہا تھا کہ بلوچستان کو پانچ ہزار ملازمتوں کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ہماری حکومت بھی کوشش کرتی رہی ہیں اور موجودہ حکومت بھی کوششیں کر رہی ہے لیکن اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی حکومت کے حکومت کے دوران جبری گمشدگیوں اور لاشیں ملنے کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔
میر حاصل بزنجو نے کہا اس وقت کے حکمرانوں کی سب سے بڑی غلطی سردار اکبر بگٹی کو ہلاک کرنا تھا اور آج بلوچستان میں جو کچھ بھی نظر آ رہا ہے اس کی وجہ نواب اکبر بگٹی کو ہلاک کرنا ہے۔







