براہمداغ بگٹی کا بھارتی وزیر اعظم کے بیان کاخیر مقدم

سوئٹزرلینڈ میں مقیم بلوچ رہنما کا کہنا تھا کہ ہمیں بندوق کی نوک اور ڈرا دھمکا کر مذاکرات کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنسوئٹزرلینڈ میں مقیم بلوچ رہنما کا کہنا تھا کہ ہمیں بندوق کی نوک اور ڈرا دھمکا کر مذاکرات کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا

بلوچستان کے علیحدگی پسند رہنما براہمداغ بگٹی نے بھارتی وزیرِاعظم کی جانب سے ایک بیان میں بلوچستان کے مسئلے کو اٹھانے کا خیرمقدم کیا ہے۔

بی بی سی کے عمر آفریدی کے ساتھ بات کرتے ہوئے براہمداغ بگٹی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ڈرا دھمکا کر مذاکرات کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا ، اب بہت دیر ہوچکی ہے اب ہم پاکستان کا حصہ نہیں رہ سکتے۔‘

برآمداغ بگٹی کے بقول بھارت نے بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کی بات کی ہے جوایک خوش آئند اقدام ہے۔

بلوچ علیحدگی پسندوں پر بھارت سے عسکری اور مالی امداد لینے کے الزام کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے براہمداغ بگٹی نے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اور بھارت کے مابین تعلقات کی نوعیت سے قطح نظر ’ہمارے بھارت سے اچھے تعلقات ہیں اور یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ ہمارے بھارت سے کوئی تعلقات نہیں ہیں۔‘

بلوچ رہنما نے الزام لگایا کہ گذشتہ پچاس سالوں سال سے حکومتِ پاکستان نے جان بوجھ کر بلوچ علاقوں کو پسماندہ رکھا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا بلوچ عوام کی پسماندگی کا ذمہ دار بھی بھارت ہے؟

برہمداغ بگٹی کے بقول دوسروں پر الزام لگا کر پاکستان اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر تا ہے۔