فاٹا اصلاحات:’ بحث پارلیمنٹ کرے گی، فیصلہ جرگہ کرے گا‘

فاٹا اصلاحات کمیٹی کی سفارشات کو پارلیمان میں بحث کے لیے پیش کیا جائے گا تاہم حتمی فیصلہ قبائلی جرگہ ہی کرے گا
،تصویر کا کیپشنفاٹا اصلاحات کمیٹی کی سفارشات کو پارلیمان میں بحث کے لیے پیش کیا جائے گا تاہم حتمی فیصلہ قبائلی جرگہ ہی کرے گا

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ فاٹا اصلاحات کے لیے قائم کردہ کمیٹی نے ایف سی آر کے قانون کے خاتمے کی تجویز دی ہے جبکہ دس نکاتی سفارشات اگلے ہفتے پارلیمان میں پیش کر دی جائیں گی۔

خیال رہے کہ وزیرِ اعظم نواز شریف نے دس ماہ قبل فاٹا اصلاحات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے بتایا کہ فاٹا اصلاحات کو پارلیمان میں بحث کے لیے پیش کیا جائے گا تاہم حتمی فیصلہ قبائلی جرگہ ہی کرے گا۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے موصول ہونے والے تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ چھ رکنی کمیٹی نے فاٹا اصلاحات مرتب کرتے ہوئے ان امور کو مدِنظر رکھا کہ اس سے قبائلیوں کی زندگی میں بہتری آئے، اصلاحات میں مقامی رواج اور جرگہ سسٹم کی تکریم کو مدنظر رکھا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد ان علاقوں کو جیوپولیٹیکل بفر زون سے تبدیل کر دیا جائے، لیکن اس سے عدم تحفظ پیدا نہیں ہونا چاہیے، اور یہ کہ فاٹا اصلاحات ایک عمل ہے اور اسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔

تجاویز

کمیٹی کی تجاویز میں فاٹا کی حیثیت کے حوالے سے چار آپشنز دیے گئے ہیں۔

  • چند تبدیلیوں کے ساتھ فاٹا کی موجودہ حیثیت برقرار رہے۔
  • فاٹا کو گلگت بلتستان کی طرح خصوصی حیثیت دے دی جائے۔
  • فاٹا کو الگ صوبہ بنا دیا جائے۔
  • فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا جائے۔

اس پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمیٹی کا خیال ہے کہ اگر فاٹا میں جلدازجلد موزوں اقدامات متعارف نہ کروائے گئے تو ضربِ عضب سے حاصل ہونے والے فوائد ضائع ہو جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

کمیٹی کے مطابق یہ اصلاحات تبھی بامعنی ہوں گی جب بےگھر ہونے والے قبائلی اپنے گھر واپس چلے جائیں اور آپریشن سے متاثر ہونے والے گھروں اور دکانوں کو دوبارہ تعمیر میں ان کی مدد کی جائے۔

  • فاٹا میں معاشی بہتری کے لیے کمیٹی نے دس سالہ ترقیاتی پروگرام کی تجویز دی ہے جس میں ساتوں ایجنسیوں کے شہری اور دیہی علاقوں کو شامل کیا جائے، اس کے علاوہ اسے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے میں شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
  • اگلے برس فاٹا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی تجویز دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ دس سالہ ترقیاتی منصوبے کا 30 فیصد نفاذ مقامی کونسلوں سے ہو گا۔
  • کمیٹی نے فاٹا کے 21 ارب کے معمول کے سالانہ بجٹ میں طویل بنیادوں پر تین فیصد اصافہ کرنے کی تجویز دی ہے۔
  • ایف سی آر کے بجائے نئے قانون ’ٹرائبل ایریا رواج ایکٹ‘ نافذ کرنے کی تجویز ہے جو مقامی رواج اور جرگہ سسٹم پر مشتمل ہو اور اس میں جج کی حیثیت پولیٹیکل ایجنٹ کے بجائے جوڈیشل افسر کو سونپی جائے۔
  • کمیٹی کی سفارشات میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھایا جائے، لیکن دوسری جانب جرگہ سسٹم سول اور جرائم کے جھگڑوں کے لیے رائج رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر ایجنسی میں ’رواج‘ کو لاگو رکھے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔
  • سرحدی حفاظت کے لیے فرنٹیئر کور کو مزید نفری دی جائے گی، جبکہ لیویز میں دو ہزار نفری کا اضافہ ہوگا اور ایف سی انھیں تربیت دے گی۔
  • جائیداد کا ریکارڈ رکھنے کے لیے زمین کا بندوبست کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ لوگ اپنی زمینوں پر قرضہ لے سکیں اور سرمایہ کاری بھی کر سکیں۔
  • ٹول ٹیکس کے خاتمے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ بدعنوانی کا خاتمہ ہو۔
  • گورنر کی سربراہی میں تمام اراکینِ اسمبلی پر مشتمل ایک ایک مشاورتی کونسل بنائی جائے۔
فاٹا کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کرتے ہوئے قبائلی رہنماؤں، علما، تاجروں، سیاسی رہنماؤں سمیت میڈیا اور نوجوانوں سے بھی مشاورت کی
،تصویر کا کیپشنفاٹا کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کرتے ہوئے قبائلی رہنماؤں، علما، تاجروں، سیاسی رہنماؤں سمیت میڈیا اور نوجوانوں سے بھی مشاورت کی

فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد کے طریقہ کار لیے یہ تجاویز دی گئی ہیں کہ ایک ڈائریکٹریٹ آف ٹرانزیشن اینڈ ریفارمز قائم کیا جائےگا۔

ان اصلاحات پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی جائے گی۔

راہداری کے وزیر کو ذمہ داری دی جائے کہ وہ تماتر پیش رفت اور عمل درآمد کی رپورٹ کابینہ کی کمیٹی کو فراہم کریں۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیرِ برائے راہداری جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے بتایا کہ فاٹا کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کرتے ہوئے قبائلی رہنماؤں، علما، تاجروں، سیاسی رہنماؤں سمیت میڈیا اور نوجوانوں سے بھی مشاورت کی ہے۔