نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے کمیٹی قائم

کمیٹی بنانے کا فیصلہ جمعرات کو نیشنل ایکشن پلان سے متعلق اہم اجلاس میں کیا گیا تھا جس میں وزیر اعظم نواز شریف کے علاوہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی شریک ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہPM HOUSE

،تصویر کا کیپشنکمیٹی بنانے کا فیصلہ جمعرات کو نیشنل ایکشن پلان سے متعلق اہم اجلاس میں کیا گیا تھا جس میں وزیر اعظم نواز شریف کے علاوہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی شریک ہوئے تھے

پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بنائے جانے والے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے اعلیٰ سطح کی ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

یہ فیصلہ وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں پیر کو نیشنل ایکشن پلان سے متعلق ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔

٭ <link type="page"><caption> کوئٹہ:’غیرملکی عناصر کا ملوث ہونا خارج از امکان نہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160811_pak_fo_briefing_rwa" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> ’سانحۂ کوئٹہ میں ایجنسیوں کی ناکامی نظر آتی ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/08/160811_khurshid_shah_media_talk_rwa" platform="highweb"/></link>

وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے ولے بیان کے مطابق اس کمیٹی کی سربراہی قومی سلامتی کے امور کے لیے وزیرِ اعظم کے مشیر جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ کو سونپی گئی ہے۔

کمیٹی کے ارکان میں وفاقی و صوبائی سیکریٹری داخلہ، نیکٹا کے ڈائریکٹر جنرل، تمام صوبائی چیف سیکریٹریز، تمام صوبوں کے آئی جی پولیس اور وزیرِ اعظم ہاؤس کے ایڈیشنل سیکریٹری بھی شامل ہوں گے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام خفیہ اداروں کا ایک ایک نمائندہ کمیٹی کی معاونت کرے گا جبکہ فوج کی نمائندگی ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کریں گے۔

یہ کمیٹی بنانے کا فیصلہ جمعرات کو نیشنل ایکشن پلان سے متعلق اہم اجلاس میں کیا گیا تھا جس میں وزیر اعظم نواز شریف کے علاوہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی شریک ہوئے تھے۔

 کوئٹہ میں ہونے والے حالیہ دھماکے میں درجنوں افراد کی ہلاکت کے بعد ملک میں دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں پر ایک بار پھر سوال اٹھنے لگے ہیں
،تصویر کا کیپشن کوئٹہ میں ہونے والے حالیہ دھماکے میں درجنوں افراد کی ہلاکت کے بعد ملک میں دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں پر ایک بار پھر سوال اٹھنے لگے ہیں

اس اجلاس میں سول آرمڈ فورسز کے مزید 29 ونگز کی تشکیل کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ سرحدی انتظام اور ملک میں سکیورٹی کی داخلی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

خیال رہے کہ کوئٹہ میں ہونے والے حالیہ دھماکے میں درجنوں افراد کی ہلاکت کے بعد ملک میں دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں پر ایک بار پھر سوال اٹھنے لگے ہیں۔

جمعرات کو ہی قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے کہا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے اور اگر اس پر مکمل عملدرآمد ہوتا تو ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو جاتا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سانحۂ کوئٹہ میں یقیناً ایجنسیوں کی ناکامی نظر آتی ہے۔

وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں دہشت گردوں کو ملنے والی فنڈنگ پر کنٹرول کرنے کے لیے مزید سختی برتنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اس میں پاکستانی پارلیمان سے حال ہی میں منظور ہونے والے سائبر کرائم بل پر بھی بات چیت کی گئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ سائبر کرائمز سے متعلق قوانین کو جلد ہی لاگو کیا جائے گا۔