افغانوں کی واپسی سے مقامی تاجر پریشان

تاجر عزیز اللہ خان کا کہنا ہے کہ گاہک کہتے ہیں کہ افغان مہاجرین جارہے ہیں لہذا ہمیں سستے داموں چیزیں فروخت کردے
،تصویر کا کیپشنتاجر عزیز اللہ خان کا کہنا ہے کہ گاہک کہتے ہیں کہ افغان مہاجرین جارہے ہیں لہذا ہمیں سستے داموں چیزیں فروخت کردے
    • مصنف, رحمان اللہ
    • عہدہ, بی بی سی پشتو، پشاور

پاکستان کی حکومت کی طرف سے افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کارڈ میں توسیع کے نئی پالیسی سے افغان تاجروں کے ساتھ ساتھ پاکستانی تاجروں کے کاروبار پر بھی برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

حکومت نے افغان مہاجرین کو اس سال کے آخر تک پاکستان میں رہنے کی اجازت دی ہے۔ تاہم اس فیصلے سے پاکستانی تاجروں کے کاروبار پر بھی مختلف قسم کے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

٭ <link type="page"><caption> افغان مہاجر سامان اونے پونے بیچنے پر مجبور</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/07/160720_afghan_refugees_zis.shtml" platform="highweb"/></link>

خیبر پختونخوا کے مرکز پشاور کے کارخانو مارکیٹ میں پاکستانی تاجروں کی تجارت کا زیادہ ترانحصار افغان مہاجرین پر ہے۔

افغان مہاجرین اس مارکیٹ سے خریدا ہوا مال ملک کے کونے کونے میں لے کر جاتے ہیں لیکن اب جب افغان تاجر اپنے دکانوں میں پہلے سے موجود سامان کو اونے پونے داموں بیجنے پر مجبور ہیں تو ایسی صورتحال میں انہیں پاکستانی تاجروں سے مزید مال خریدنے کی ضرورت پیش نہیں آ رہی ہے جس سے پاکستانی تاجروں کے کاروبار پر کافی حد تک اثر پڑا ہے۔

ایاز خان کا کہنا ہے کہ بازار میں تاجروں کے منہ پر ایک ہی بات ہے کہ کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے
،تصویر کا کیپشنایاز خان کا کہنا ہے کہ بازار میں تاجروں کے منہ پر ایک ہی بات ہے کہ کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے

کارخانو مارکیٹ میں کمبل بیچنے والے ایک تاجر عزیز اللہ خان کا کہنا ہے کہ مہاجرین کے جانے کی وجہ سے ان کا کاروبار پچاس فیصد تک کم ہوکر رہ گیا ہے۔

’اب ہمارے پاس گاہک آ کر سستے داموں چیزوں خریدنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ افغان مہاجرین جا رہے ہیں لہذا ہمیں سستے داموں چیزیں فروخت کردے۔‘

’ہمیں یہ مسئلہ بھی ہے کہ جن افغان تاجروں پر ہمارا قرضہ ہے وہ اگر واپس افغانستان چلے جاتے ہیں تو ہم کیا کریں گے ہمیں اپنا قرضہ واپس کیسے ملے گا؟‘

ایاز خان کارخانو مارکیٹ میں الیکٹرانکس کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بازار میں تاجروں کے منہ پر ایک ہی بات ہے کہ افغان مہاجرین جا رہے ہیں لہذا کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔

’پہلے ہمارے زیادہ تر گاہک افغان مہاجر تھے۔ کچھ سامان ہم افغان تاجروں سے خریدتے تھے اور کچھ وہ ہم سے خرید لیا کرتے تھے اس طرح ہمارا کاروبار چل رہا تھا لیکن مہاجرین کا واپس افغانستان جانے سے ہمارا کاروبار پچاس فیصد سے بھی کم ہو کر رہ گیا ہے۔‘

تاجر انیل سنگھ کا کہنا ہے کہ افغان پناہ گزین پہلے شہر کے ہر کونے سے سامان خریدنے کےلیے آیا کرتے تھے لیکن اب ان کی تعداد کم ہوگئی ہے
،تصویر کا کیپشنتاجر انیل سنگھ کا کہنا ہے کہ افغان پناہ گزین پہلے شہر کے ہر کونے سے سامان خریدنے کےلیے آیا کرتے تھے لیکن اب ان کی تعداد کم ہوگئی ہے

کارخانو مارکیٹ میں کاسمیٹکس کا کاروبار کرنے والے ایک سکھ تاجر انیل سنگھ کا کہنا ہے کہ افغان پناہ گزین پہلے شہر کے ہر کونے سے ان کے پاس سامان خریدنے کےلیے آیا کرتے تھے لیکن اب ان کی تعداد کم ہوگئی ہے۔

انھوں نے کہا ’پہلے ہم افغان تاجروں کو قرضہ پر سامان فروخت کیا کرتے تھے لیکن اب جبکہ وہ جا رہے ہیں تو ہم ان پر اب اعتبار نہیں کرسکتے اور نہ ان کو قرض پر سامان بیج سکتے ہیں۔ افغان ہمارے بڑے گاہک تھے لیکن ان کے جانے سے ہمارا کاروبار بہت متاثر ہوا ہے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان میں اس وقت تیس لاکھ کے قریب افغان مہاجرین ملک کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں۔

ان میں سے ایک بڑی تعداد غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر کے ترجمان دنیا اسلم خان کے مطابق رواں سال اب تک 27 ہزار سے زیادہ مہاجرین اپنے وطن واپس جاچکے ہیں۔