آدم خور گائیں

بعض گائیں بڑی بد مزاج ہوتی ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبعض گائیں بڑی بد مزاج ہوتی ہیں
    • مصنف, آمنہ مفتی
    • عہدہ, مصنفہ و کالم نگار

ساری عمر سنا بھی، پڑھا بھی اور دیکھا بھی کہ گائے گھاس کھاتی ہے اور دودھ دیتی ہے۔ گائے کو ذبح کر کے اس کا گوشت کھایا جاتا ہے اور اس کی کھال سے جوتے، پرس اور بیلٹ وغیرہ بنتے ہیں۔

پوری دینا میں گھریلو اور تجارتی پیمانے پر گائے پالی جاتی ہے۔ گائے کی خوراک، چارہ، ونڈا، سائیلج وغیرہ ہے۔ زیادہ لاڈ سے پالنے والے انھیں سرسوں کی کھل بھی کھلاتے ہیں، بھوسی ٹکڑے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ پنجاب کے جاڑوں سے بچانے کو اسو اور کاتک میں گڑ، آٹے اور میٹھے تیل کے لڈو بنا کر کھلائے جاتے ہیں۔ گائیوں کی کھرلیوں میں نمک کے بڑے بڑے ڈلے بھی اکثر نظر آتے ہیں جنھیں وہ بہت شوق سے چاٹتی ہیں۔ کبھی کبھار انھیں گلقند اور سفید زیرہ کھلایا جاتا ہے۔

بعض گائیں بڑی بد مزاج ہوتی ہیں، لیکن اپنی بد مزاجی کے باوجود یہ زیادہ سے زیادہ پھنکارنے، گھورنے اور ہلکی پھلکی ٹکر مارنے پر ہی اکتفا کرتی ہیں۔ عام طور پر گائے کی سادگی اور صلح جوئی مشہور ہے۔

سادہ مزاج لوگ جن کی اپنی کوئی رائے نہیں ہوتی اکثر ’ اللہ میاں کی گائے ‘ کہلاتے ہیں۔ ہمارے ہاں کیجو میراثن اکثر دلدوز آواز میں رخصتی گاتی تھی ’ ہم تو رے بابل کھونٹے کی گیاں‘ تو پتھر سے پتھر دل خواتین ایسا بلک کے روتی تھیں کہ آنکھیں متورم ہو جاتی تھیں اور اس حسنِ رنجیدہ کو دیکھنے والوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگ جاتے تھے ہر سبکی اور ہر سسکی پر، دل پہلو سے نکل نکل پڑتے تھے، گائے کے وسیلے سے کیجو کی جھولی بھی چونیوں اٹھنیوں سے بھر جاتی تھی۔

یہ آدم خور گائیں کئی مسلمانوں اور دلتوں کی نگل چکی ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنیہ آدم خور گائیں کئی مسلمانوں اور دلتوں کی نگل چکی ہیں

یہ امن پسند جانور بہت مفید بھی ہے۔ انسان غاروں سے نکل کر کھیتی باڑی کرنے لگا تو اس کا واسطہ گائے سے پڑا ۔ تب سے اب تک یہ دونوں ساتھ ہی ہیں اوراس ساتھ سے ابھی تک توبہت خوش بھی ہیں۔

گائے کی بہت سی اقسام ہیں۔ آسٹریلین گائے دودھ کی پیداوار کے لیے مشہور ہے، سیاہ آنگس گوشت کی پیداوار میں ثانی نہیں رکھتی اور ہمارے ہاں ساہیوال نسل کی سرخ جلد والی گائے کی دھوم ہے۔ گائے دیسی ہو یا بدیسی، دودھ کے لیے پالی جائے یا گوشت کے لیے، کھاتی چارہ ہی ہے یا وہ امیرانہ خوراک جس کا میں نے ذکر کیا۔ بہت ممکن ہے اس کے علاوہ کچھ اور بھی کھاتی ہو۔ ماہرینِ حیاتیات نے گائے کو سبزی خور جانور بیان کیا ہے اور اس کے چپٹے دانت، بڑا خانہ دار معدہ، فطرت نے خاص اسی مقصد کے لیے بنائے ہیں۔

فالتو وقت میں یہ اس نیم ہضم شدہ چارے کو، جو اس کی فطری خوراک ہے بار بار منہ میں لا کر جگالی کرتی رہتی ہے۔ گائے کا گوبر ایندھن کے کام آتا ہے اور اس میں توڑی اور چکنی مٹی ملا کر کی گئی لپائی، ڈسٹمپر کو مات کرتی ہے۔

میں نے ساری عمر گائیں پالی ہیں اور میں حلفاً یہ کہنے کو تیار ہوں کہ گائے گوشت نہیں کھاتی، فطری مجبوری ہے کہ انسان ہمہ خور ہے اور گائے سبزی خور ۔یہ ہی قانونِ فطرت ہے، لیکن خدا جانے کیا حادثہ ہوا، ہمارے پڑوسی ملک کی گائیں پچھلے کچھ عرصے سے نہ صرف گوشت خور بلکہ آدم خور ہو گئیں۔

زندہ تو زندہ، مرنے کے بعد بھی یہ گائیں ان دلتوں کو کھا جاتی ہیں جو صدیوں سے ان کی کھال اتارنے پر مامور ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنزندہ تو زندہ، مرنے کے بعد بھی یہ گائیں ان دلتوں کو کھا جاتی ہیں جو صدیوں سے ان کی کھال اتارنے پر مامور ہیں

یہ آدم خور گائیں کئی مسلمانوں اور دلتوں کی نگل چکی ہیں۔ صورتِ حال اتنی خراب ہو چکی ہے کہ زندہ تو زندہ، مرنے کے بعد بھی یہ گائیں ان دلتوں کو کھا جاتی ہیں جو صدیوں سے ان کی کھال اتارنے پر مامور ہیں۔

مزیداری کی بات یہ ہے کہ یہ آدم خور گائیں بے حد ذہین بھی ہیں۔ اس لیے یہ صرف اقلیتی مسلمانوں اور دلتوں کو کھاتی ہیں باقی ساری دنیا سے ان کے بے حد اچھے سفارتی اور تجارتی تعلقات ہیں جو اکثر بیف سٹیک کی پلیٹ ہی پر بنائے جاتے ہیں۔

ان کا ایک بڑا مطالبہ یہ ہے کہ مشہورِزمانہ فلم ’ میٹریکس‘ کا وہ سین ہندوستان میں دکھاتے ہوئے کاٹ دیا جائے جہاں ایک اداکار دوسرے سے کہتا ہے کہ جب میں یہ سٹیک منہ میں رکھتا ہوں تو میٹریکس مجھے بتاتا ہے کہ یہ کتنا مزے دار ہے۔ کیونکہ ان کو شبہ ہے کہ یہ سٹیک گائے کا ہے۔ خیر لیبارٹری ٹیسٹ سے اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ بیل کا ہے تو ان کی خفگی ختم ہو سکتی ہے۔

پریشان کن بات یہ کہ اگر یہ وائرس جس نے گائے جیسے شریف النفس جانور کو آدم خور بنا دیا ہے اسی طرح پھیلتا رہا تو وہ وقت دور نہیں جب ہندوستان میں نہ کوئی دلت بچے گا نہ مسلمان، صرف گائیں رہ جائیں گی اور وہ بھی آدم خور۔