بلے او چالاک ٹونیا

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, آمنہ مفتی
    • عہدہ, مصنفہ و کالم نگار

میرے دوستوں میں ایک صاحب کے 25 سالہ بیٹے کا نام ’صدام‘ ہے اور دوسرے کے ملازم کے 13 سالہ بچے کانام بھی’ صدام ‘ہے۔

ان دونوں کی عمر میں 11 سال کا فرق ہے۔ لیکن ان دونوں کے سماجی رتبوں کا فرق، بہت ہی معنی خیز ہے۔ جب کوئی شخص بامِ عروج پہ ہو تو لوگ اپنے بچوں کے نام اس کے نام پہ رکھ دیتے ہیں۔ لیکن مقہوری کے دور میں ایک غریب ڈرائیور کا اپنے بیٹے کا نام ’ صدام‘ رکھنا بہت کچھ کہتا ہے۔

ایک شخص جسے ساری دنیا کے سامنے پھانسی دی جائے، دنیا بھر کے عالم فاضل یہ ثابت کریں کہ یہ مجرم تھا اور اپنے عوام پہ آفتیں لایا تھا، ایران عراق جنگ کا باعث بنا۔کویت پہ حملے نے رہی سہی کسر پوری کی اور پھر سب نے کہا کہ ظالم ’ تباہ کن‘ ہتھیار رکھے بیٹھا تھا۔اس شخص کا نام دور افتادہ گاؤں کے ان پڑھ آدمی کے دل میں دھڑک رہا تھا اور کیا یہ حبِ علی ہی تھا؟

سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے سابق عراقی صدر صدام حسین کو بچانے کی کوشش نہیں کی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے سابق عراقی صدر صدام حسین کو بچانے کی کوشش نہیں کی

چلکوٹ رپورٹ آئی اور بہت کچھ کہہ گئی۔ لاکھوں انسانوں کا خون بہا، کروڑوں لوگ متاثر ہوئے، ایک پوری نسل کا مستقبل تاریک ہو گیا اور ایسی آگ لگی جسے جانے کتنی نسلوں کا خون بجھائے گا۔ فرقہ واریت کا بھوت جو بوتل میں بند تھا نکل آیا۔ اب یہ بات کس سے پوشیدہ ہے کہ سب طرف لگی یہ آگ، کس گھر سے آئی تھی۔

صدام کا مجسمہ گرانے والے کہتے ہیں کہ اگر مجھے ٹونی بلئیر مل جائے تو میں اس کی منہ پہ تھوک دوں۔ کیا ان کی اس حرکت سے مشرقِ وسطیٰ کا امن واپس آجائے گا؟

ٹونی بلیئر کہتے ہیں کہ میری نیت صاف تھی۔ یہاں آ کر اردو زبان پھر ساتھ چھوڑتی ہے اور صرف ایک جملہ ذہن میں آتا ہے’ بلے او چالاک ٹوہنیا‘۔

کاظم الجبوری وہ شخص تھا جس نے صدام حسین کا بت گرایا، اور آج وہ اسے پھر سے ایستادہ کرنا چاہتا ہے۔ گزرے سالوں میں دنیا کے ’ آکا اباؤں ‘ نے جو عالی شان حکمتِ عملی مرتب کی اور اپنی کوتاہ علمی سے آنے والی نسلوں کے لیے کانٹوں کی جو فصل بوئی، وہ آج پک کر تیار ہوچکی ہے۔

کاظم ہی کہتے ہیں کہ آج یہاں لاکھوں صدام ہیں۔ میں نے اپنے کسی پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ ہندوستان کے ٹھگ اپنے شکار کو ٹھگ کر ایسے مارتے تھے کی خون کا ایک قطرہ بھی نہ بہے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خون کا ہر وہ قطرہ جو زمین پر گرتا ہے اس سے کئی راکھشس جنم لیتے ہیں۔

ان ٹھگوں کو انگریزوں ہی نے ختم کیا تھا۔ کاش وہ اسی وقت کچھ سبق حاصل کر لیتے۔

جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ میں بارہا ایک بات کہتی ہوں کہ نظریے کو سنگین کی نوک میں نہیں پرویا جا سکتا۔

انسان مر جاتا ہے مگر خیال نہیں مرتا۔ آج ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں وہاں، نہ تو انسان محفوظ ہے نہ اس کی عبادت گاہیں۔ مدینہ منورہ میں پھٹنے والا بم، ایک روز کی پلاننگ کا نتیجہ نہ تھا، بنگلہ دیش میں مار دیے جانے والوں کی فہرست آج ہی مرتب نہیں ہوئی، بغداد میں ہونے والے دھماکے کا بارود آج نہیں بنا، استنبول ایئر پورٹ پہ خون بہانے کا ارادہ بہت پہلے کر لیا گیا تھا۔

دنیا کے ٹھیکیداروں نے اگلی نسل کو تحفے میں دینے کے لئے بد امنی کا یہ توشہ بڑی محنت اور عرق ریزی سے تیار کیا۔ سب انسان ایک جسم ہی تو ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہی کہ آپ عراق میں آگ لگا کے کہیں بھی امن سے بیٹھ جائیں؟

کاظم الجبوری وہ شخص تھا جس نے صدام حسین کا بت گرایا، اور آج وہ اسے پھر سے ایستادہ کرنا چاہتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکاظم الجبوری وہ شخص تھا جس نے صدام حسین کا بت گرایا، اور آج وہ اسے پھر سے ایستادہ کرنا چاہتا ہے

انسان صرف اس وقت تک انسان ہے جب تک وہ معاشرے میں رہ رہا ہے، جس وقت معاشرہ تباہ ہوا، انسان صرف دوٹانگوں پر چلنے والا ایک حیوانِ ناطق بن کر رہ جاتا ہے۔

افغانستان کا معاشرہ تباہ کرنے کا انجام ہم دیکھ چکے ہیں۔ عراق کے قصے آپ کو معلوم ہوتے ہی رہتے ہیں۔ یہ آگ صرف سوچ سمجھ سے بجھائی جا سکتی ہے۔ اس آگ میں جوان جسموں کا جتنا ایندھن ڈالا جائے گا یہ اتنا ہی بھڑکے گی۔

ابنِ انشا نے لکھا تھا۔

’گ، گبرو ہے کہ بائیس بہاروں میں پلے

ل، لاشہ ہے کہ دو روز کے اندر سڑ جائے‘

اگر جنگ کسی مسئلے کا حل ہوتی تو دنیا میں کوئی مسئلہ نہ ہوتا کیونکہ لڑنا انسان کی بنیادی صفت ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے اور چلکوٹ رپورٹ سے سبق یہ ملتا ہے کہ ساری دنیا سر جوڑ کے بیٹھے اور جہاں جہاں جنگ کی گئی ہے وہاں معاشروں کی تعمیرِنو کرے ،بلکہ بہتر یہ ہو گا کہ ان لوگوں ہی میں سے جو لوگ عوام میں مقبول ہیں انھیں یہ کام کرنے دیا جائے۔

فوج کشی اور تشدد جہالت ہے ، جہل کی کوئی تاویل نہیں ہوتی۔پورس کا جرم، دارا کی خطا، اس کے سوا کیا تھی کہ وہ اپنے ملکوں پہ حکومت کر رہے تھے اور بقول کسے’ ایک بادشاہ ، بادشاہت نہ کرے تو کیا کرے؟‘