سلطنت کی حد!

،تصویر کا ذریعہAP

    • مصنف, آمنہ مفتی
    • عہدہ, مصنفہ و کالم نگار

ارسطو سے پوچھا گیا کہ سلطنت کی حد کیا ہونی چاہیے؟ جواب ملا، تا حدِنظر۔‘ جن حاکمانِ ریاست کی دور کی نظر کمزور ہو، ان کی ریاست کی حد کیا ہے؟ اس سوال کا جواب کوئی نہیں دے پایا یا شاید یہ سوال پوچھا ہی نہیں گیا۔

موجودہ ریاستوں میں چند ایک کے کو چھوڑ کے باقی تمام ریاستوں میں، بالخصوص مشرقی ممالک میں بہت سی علیحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں، اور شاید یہی جمہوریت کا حسن ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اکثر بڑی ریاستیں صرف سخت گیر پالیسیوں پہ قائم ہیں۔ ان بڑی ریاستوں میں ایک ہندوستان بھی ہے۔

ہندوستان کا رقبہ 32 لاکھ 87 ہزار مربع کلومیٹر ہے آبادی کو تو نہ ہی پوچھیں کہ سوا ارب سے متجاوز ہے۔ ملک کی 80 فی صدی آبادی ہندواور باقی اقلیتوں میں مسلمان تقریباً 14 سے 15 فی صد ہیں، عیسائی دوسری بڑی اقلیت اور سکھ تیسری اقلیت ہیں۔

اس عظیم الشان ریاست کا شمار دنیا کی بڑی جمہوریتوں میں ہوتا ہے۔ کرپشن، آلودگی، بڑھتی ہوئی آبادی کے باوجود ہندوستان ترقی کر رہا ہے۔ اعداد و شماراسے ایک اہم اور ابھرتی ہوئی معاشی طاقت ثابت کرتے ہیں۔

یہ سب بہت خوش آئند باتیں ہیں۔ نوآبادیاتی جبر سے نکلنے کے بعد ہندوستان کا ترقی کرنا اور ایک جدید ریاست کے طور پہ سامنے آنا انسانی جدو جہد کا ایک ایسا کارنامہ ہے جس پہ بحیثیت انسان مجھے بھی فخر ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ترقی کے اعداد و شمار دکھانے والوں نے ہندوستان میں انسانی حقوق، خاص کر اقلیت کے حقوق اور علیحدگی پسند تحریکوں کی طرف ہندوستان کے رویے پہ بہت کم بات کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان ہیں۔ جن کی آبادی بعض علاقوں میں اتنی ہے کہ وہ مسلم اکثریتی علاقے بن گئے ہیں۔ ان علاقوں میں سے ایک کشمیر بھی ہے۔ کشمیر کے مسلمان 70 سال سے زائد عرصے سے اقوامِ متحدہ کی قرار داد کے باوجود ریفرینڈم کا حق حاصل نہ کر پائی۔

ہندوستان کے قلب دہلی میں بی جے پی کے پاس 70 میں سے صرف تین نشستیں ہیں۔ عام آدمی پارٹی کی اس کامیابی کے پیچھے اس علاقے کی آبادی میں اقلیتوں کا تناسب اور بی جے پی کو اقلیتوں کی جانب سے رد کیے جانے کے رجحان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اندا گاندھی کے دور میں گولڈن ٹیمپل میں سکھوں کے جو کچھ کیا گیا اور سکھ علیحدگی پسندوں کی تحریک کو جس طرح دبایا گیا اسے عالمی میڈیا بھی کور نہ کر سکا۔ وہی ہندوستان جو جلیا نوالہ باغ کا تمغہ سینے پہ سجائے کھڑا ہے اسی ہندوستان کے ماتھے پہ سکھوں کے قتلِ عام کا داغ بھی ہے۔

کیا جمہوریت اقلیتوں سے علیحدہ رہنے کے مطالبے کا یہ حق چھین لیتی ہے؟

ہندوستان کی فوج اصل میں نوآبادیاتی فوج کی ہی ارتقائی شکل ہے۔ اسے بالکل علم نہیں کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے اور علیحدگی کا سوال اٹھنا ایک ایسا جرم نہیں جس پہ نہتے عوام پہ گولیاں برسا دی جائیں۔ ان کو آج بھی جنرل ڈائر کا سبق ’سیدھا فائر کرو‘ یاد ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

نر بھیہا کا حادثہ سب کے علم میں ہے اور اس مسئلے پر مودی سرکار کی دلچسپی سب ہی کے سامنے ہے۔

’ریپ کرنے پر کیا لڑکوں کو مار ہی دیا جائے؟‘

کہنے والے لوگ آزادی کا نعرہ لگانے والوں کو مار دینے کے حق میں ہیں۔ مردہ گائے کی کھال اتارنے پہ انسانوں کی تذلیل کرنے والوں سے اگر کل کو دلِت علیحدہ ہونا چاہیں گے تو کیا وہ ناحق ہوں گے؟ کیا کل ان پہ اسی طرح گولیاں برسائی جائیں گی جس طرح کشمیریوں اور سکھوں پہ برسائی جاتی رہی ہیں؟

میرے خیال میں ریاستوں کی سرحدیں اتنی اہم نہیں کہ ان کے لیے انسانی جانیں ضائع کی جائیں اور اگر ریاست فرد سے زیادہ مقدس ہے تو شاید ہم سے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے، ریاست فرد کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تھی۔

افراد کو ریاست پر قربان کرنے کے لیے پیدا نہیں کیا جاتا۔ لیکن کشمیر میں تو ایسا نظر آتا ہے کہ مائیں اس لیے بچے پال رہی ہیں کہ ہندوستان کی ہٹ دھرمی پر قربان ہو جائیں۔