چھ ماہ میں پنجاب سے 767 بچے اغوا ہوئے: پولیس

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی پولیس نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ رواں برس صوبے میں 767 بچے اغوا ہوئے ہیں جن میں سے 715 بچوں کو بازیاب کرا لیا گیا۔
پولیس حکام نے یہ اعداد و شمار پنجاب میں بچوں کے اغوا کی وارداتوں میں اضافے پر سپریم کورٹ کے روبرو از خود نوٹس کی سماعت کے دوران پیش کیے ہیں۔
سپریم کورٹ کے سنیئیر ترین جج جسٹس میاں ثاقب نثار نے قائم قام چیف جسٹس پاکستان کی حیثیت سے دو روز پہلے از خود نوٹس لیا تھا۔
جمعرات کو سپریم کورٹ کے جسٹس میاں ثاقب نثار اور جسٹس اقبال حمید الرحمان پر مشتمل بینچ نے از خود نوٹس پر کارروائی کی۔
سماعت کے دوران اے آئی جی پنجاب پولیس عارف نواز نے صوبے میں بچوں کے اغوا کی وارداتوں کے بارے میں اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ پیش کی۔
اس رپورٹ کے مطابق 6793 بچے گذشتہ چھ برسوں میں اغوا ہوئے جن میں سے 6654 بچے بازیاب کرا لیے گئے جبکہ 139 بچے تاحال لاپتہ ہیں۔
پولیس رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ بچے سنہ 2011 میں اغوا ہوئے جن کی تعداد 1272 بچے ہے ان میں سے 1264 بچے بازیاب ہوگئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2012 میں اغوا ہونے والے 1260 بچوں میں سے 1156 کو بازیاب کرا لیا گیا، سال 2013 میں 1156 بچے اغوا ہوئے اور صرف 16 بچے بازیاب نہ ہو سکے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 2014 میں 1203 بچوں کے اغوا کے مقدمات درج کیے گیے اور پولیس نے 1185 کو تلاش کر لیا۔
اے آئی جی پنجاب عارف نواز نے بتایا کہ 2015 میں اغوا کی 1134 وارداتیں ہوئیں اور 1093 بچے بازیاب کرا لیے گئے۔ رواں سال ابھی تک 767 بچے اغوا ہوئے اور ان میں سے 715 بچے اپنے گھر پہنچ چکے ہیں۔
رپورٹ میں اغوا ہونے والے بچوں کی عمریں چھ سے 15 سال تک ہیں اور یہ بچے لاری اڈہ، بس سٹاپ، پارکس اور ریلوے سٹیشن سے اغوا ہوئے۔
بینچ کے سربراہ جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ بچوں کے اغوا کا معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے اور وہ اس کی تہہ تک جائیں گے۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
سپریم کورٹ نے پولیس کو ہدایت کی کہ وہ اغوا کے مقدمات میں سے دس مقدمات پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کریں۔
سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے از خود نوٹس پر کارروائی تین اگست تک ملتوی کر دی ہے اور آئندہ سماعت پر بچوں کے والدین کو بھی طلب کیا ہے۔







