پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ووٹوں کی گنتی جاری

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی 41 نشستوں کے انتخابات کے لیے 423 امیدوار میدان میں ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی 41 نشستوں کے انتخابات کے لیے 423 امیدوار میدان میں ہیں

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پارلیمانی انتخابات کے تحت قانون ساز اسمبلی کی 41 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالنے کا مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

جمعرات کو انتخابات کے لیے 10 اضلاع میں کل 5427 پولنگ مراکز جبکہ 8046 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں جبکہ سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔

پولنگ صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہی۔

مجموعی طور پر پولنگ پر امن جارہی ہے تاہم اکا دکا جگہ سے معمولی جھگڑوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہے۔

ضلع حویلی میں ہوائی فائرنگ کرنے والے ایک کارکن کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ضلع ہٹیاں بالا سے میں پاکستان تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں میں لڑائی سے چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

صحافی اورنگزیب جرال کے مطابق ضل بھمبر میں پولیس نے بتایا ہے کہ سات افراد کو جعلی ووٹ کاسٹ کر نے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے۔

ان انتخابات میں کل 26 سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔

اس میں 26,74,584 افراد بالغ رائے دہی کے تحت اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا جبکہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کی 12 نشستوں کے لیے ووٹرز کی کل تعداد 4,38,884 ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات پاکستانی فوج کی نگرانی میں ہورہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات پاکستانی فوج کی نگرانی میں ہورہے ہیں

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی 41 نشستوں کے انتخابات کے لیے 423 امیدوار میدان میں ہیں۔

ان میں سے 324 امیدوار پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی 29 نشستوں جبکہ 99 امیدوار پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کی بارہ نشستوں کے لیے مدمقابل ہیں۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 8 خواتین امیدوار بھی حصہ لے رہی ہیں۔ تین خواتین آزاد امیدوار ہیں جبکہ دو پیپلز پارٹی، ایک مسلم لیگ ن، ایک مسلم کانفرنس جبکہ ایک متحدہ جموں کشمیر نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر براہِ راست انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی نے کسی خاتون کو براہِ راست انتخاب کے لیے ٹکٹ نہیں دیا۔

حکام کے مطابق ان انتخابی پولنگ مراکز میں سے دس کو حساس ترین جبکہ تقریبا دیگر ایک ہزار کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات پاکستانی فوج کی نگرانی میں ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل 2011 میں منعقد ہونے والے انتخابات اس خطے کی پولیس کی نگرانی میں کروائے گے تھے۔

ووٹنگ کے دوران امن و امان قائم رکھنے کی غرض سے ہزاروں فوجیوں اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں کو پولنگ مراکز کے اندر اور باہر تعینات کیا گيا ہے۔

ان اہلکاروں میں سے 17 ہزار سے زائد فوجی، ایف سی کے دس ہزار جوان اور پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

پولنگ سٹیشنز پر سخت حفاظتی انتظامات اور فوج کی کڑی جانچ کے باعث پولنگ کا عمل نسبتاً سست رہا۔ ووٹرز کو موبائل فون یا کیمرہ ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ حتی کہ الیکشن کمیشن سے جاری کردہ کارڈز کے باوجود صحافیوں کو بھی بیشتر پولنگ سٹیشنز کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، مسلم کانفرنس اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام جیسی سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہے۔

انتخابات کے لیے کل 5427 پولنگ مراکز جبکہ 8046 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے

،تصویر کا ذریعہAurangzaib Jarral

،تصویر کا کیپشنانتخابات کے لیے کل 5427 پولنگ مراکز جبکہ 8046 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے

ان جماعتوں میں جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر، پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی جبکہ مسلم کانفرنس پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی ہیں۔

24 اکتوبر 1947 کو پاکستان کے زیرِ انتظام آنے کے بعد کشمیر کے اس حصے میں طویل عرصے تک صدارتی نظام حکومت رہا اور سنہ 1975 میں پارلیمانی نظام متعارف کروائے جانے کے بعد یہاں سیاسی جماعتوں کے لیے میدان بنا۔

ابتدائی طور پر یہاں قابلِ ذکر سیاسی جماعت کی حیثیت سے سنہ 1932 میں قائم سب سے بڑی ریاستی جماعت مسلم کانفرنس ہی پہچان بنا سکی تاہم پھر پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی یہاں اپنی جگہ بنا لی۔

یہاں کئی علیحدگی پسند جماعتیں بھی ہیں لیکن آئین کی شق کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے والی ہر جماعت کو الحاق پاکستان کے حلف نامہ پر دستخط کرنا ضروری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قائم حکومت کا اثر یہاں ہونے والے انتخابات پر واضح نظر آتا ہے اور اس خطے کے انتخابات میں عموما وہی جماعت کامیابی حاصل کرتی ہے جسے پاکستانی حکومت کی حمایت حاصل ہو۔