’غیرت کے نام پر قتل کو روکنا حکومت پاکستان کی ذمہ داری‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اقوام متحدہ نے پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات کی مذمت کی ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں اور ملوث افراد کو سزا دی جائے۔
اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر نیل بہنے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال سینکڑوں خواتین اور بچیاں خاندان یا برادری کی غیرت بچانے کے لیے قتل کر دی جاتی ہیں۔
’لیکن حال ہی میں اس قسم کے قتل کے واقعات میں اضافہ اس قسم کے واقعات کی بڑی قیمت کو اجاگر کرتے ہیں جو خواتین اور لڑکیوں کو چکانی پڑتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا ’22 سالہ مقدس بی بی کے قتل کا واقعہ ایسا ہی ایک قتل ہے جن کو ان کے اپنے ہی خاندان والوں نے اس لیے قتل کر دیا کیونکہ انھوں نے اپنی پسند کی شادی کی تھی۔‘
یاد رہے کہ مقدس بی بی نے تین سال قبل اپنی پسند کی شادی کی تھی۔ ان کو چند روز قبل ہی لاہور میں ان کے خاندان والوں نے مبینہ طور اس وقت قتل کیا جب وہ دوسری بار حاملہ تھیں۔
حالیہ ماہ میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر نیل بہنے نے بیان میں کہا ہے کہ ’بین الاقوامی اور قومی قوانین کے تحت خواتین کے حقوق اور آزادی کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ ریاست اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے اور وہ لوگ جو ایسے واقعات میں ملوث ہیں ان کو انصاف کے کٹھرے میں لایا جائے۔‘
اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹرنے بیان میں مزید کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے تین قرار دادوں میں 2001، 2003 اور 2005 ممبر ممالک سے کہا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل یا تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے قوانین میں تبدیلی اور تعلیمی اور سماجی کوششوں میں تیزی لائی جائے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ حکومت پاکستان اس بات کا اعتراف کیا ہے اور وزیر اعظم نواز شریف نے فروری میں کہا تھا کہ ’غیرت کے نام پر قتل ایک تشویشناک مسئلہ ہے اور حکومت پاکستان سماج سے اس دھبے کو دھو نکالنے کے لیے ہر قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔‘
اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر نیل بہنے نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اس معاملے میں حکومت پاکستان کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔
’اس حوالے سے ایک مضبوط قومی اور صوبائی کمیشن برائے خواتین اور خواتین کی ترقی کے لیے محکمے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق 2015 میں غیرت کے نام پر 1096 خواتین بشمول 170 لڑکیاں جن کی عمریں 18 سال سے کم تھیں کا قتل ہوا۔







