غیرت کے نام پر بہن کو جلانے والے ملزم کا جسمانی ریمانڈ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی عدالت نے غیرت کے نام پر اپنی بہن کو جلا کر ہلاک کرنے کے ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔
پسند کی شادی کرنے والی 17 سالہ زینت کی ہلاکت کا واقعہ چھ جون کو لاہور میں تھانہ فیکٹری ایریا کی حدود میں پیش آیا تھا۔
٭ <link type="page"><caption> لاہور میں پسند کی شادی پر’ماں نے بیٹی کو زندہ جلا دیا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/06/160608_lahore_woman_torches_daughter_zz" platform="highweb"/></link>
ملزم انیس وقوعہ کے دن سے مفرور تھا اور پولیس نے اسے منگل کو لاہور سے ہی اس کے رشتہ داروں کے گھر سے گرفتار کیا تھا۔
ملزم نے اپنی گرفتاری کے بعد میڈیا کے سامنے یہ بیان دیا تھا کہ اس نے اپنی بہن زینت کو نہیں مارا اور نہ ہی آگ لگانے کے واقعے سے اس کا کوئی تعلق ہے۔
پولیس نے انیس کو بدھ کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا اور عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے اپنی ماں اور بہن کے ساتھ مل کر زینت کو جلا کر مار دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پولیس نے یہ بھی بتایا کہ لڑکی کے گھر والے اسے یہ سمجھا کر شوہر کے گھر سے واپس لائے تا کہ وہ باقاعدہ طور پر اس کی رخصتی کریں گے تاہم گھر واپس لا کر اسے آگ لگا دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم انیس قتل کے وقوعہ کے بارے میں حقائق چھپا رہا ہے اس لیے اس سے تفتیش کی ضرورت ہے جس کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج نے پولیس کے پیش کردہ تمام ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا اور پولیس کی استدعا جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے انیس کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا۔
خصوصی عدالت کے جج نے پولیس کو ہدایت کی کہ جسمانی ریمانڈ کی معیاد ختم ہونے پر ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے اور ملزم سے کی جانے والی تفتیشی رپورٹ پیش کی جائے۔
خیال رہے کہ لاہور پولیس نے لڑکی کے شوہر حسن خان کی درخواست پر لڑکی کی ماں، بھائی اور دیگر رشتہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
مقتولہ زینت کی ماں پروین بی بی اور اس کا بہنوئی ظفر پہلے ہی جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں اور انھیں 15 جون کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔







