لڑکی کو جلانے والے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ

،تصویر کا ذریعہbbc
- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور میں عدالت نے بیٹی کو زندہ جلانے کی ملزم خاتون اور اس کے داماد کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر تفتیش کے لیے پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔
اپنی پسند سے شادی کرنے والی 17 سالہ زینت کو چھ جون کو اس کی والدہ پروین بی بی نے اپنے داماد مظفر کے ساتھ مل کر مبینہ طور آگ لگا کر قتل کر دیا تھا۔
پولیس نے لڑکی کے شوہر احسن خان کی درخواست پر لڑکی کی ماں اور دیگر رشتہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
جمعے کو پولیس نے ملزمہ پروین بی بی اور مظفر کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جہاں جج چوہدری محمد الیاس نے مقدمے کی سماعت کی۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ’ملزمہ نے شریک ملزموں کے ساتھ مل کر پسند کی شادی کرنے والی اپنی 17 سالہ بیٹی زینت کو غیرت کے نام پر جلا کر مار دیا۔‘
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے گھر والے اسے بہلا پھسلا کر واپس گھر لائے تھے کہ وہ باقاعدہ طور پر اس کی رخصتی کریں گے تاہم گھر لا کر اسے جلا ڈالا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

پولیس کی مطابق اس معاملے کی مختلف زاویوں سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ملزمہ اور اس کا داماد قتل کے وقوعہ اور دیگر شریک ملزموں کے بارے میں حقائق چھپا رہے ہیں، اس لیے ان کا جسمانی ریمانڈ چاہیے۔
پولیس نے عدالت سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی، تاہم جج نے یہ استدعا جزوی طور پر مانتے ہوئے ملزمہ اور اس کے داماد کا پانچ دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا۔
خصوصی عدالت کے جج نے پولیس کو پابند کیا کہ ریمانڈ کی معیاد مکمل ہونے پر ملزمان کو 15 جون کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔
پولیس اس مقدمے میں مقتولہ زینت کے بھائی انیس کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے ما رہی ہے تاہم ابھی تک اسے کامیابی نہیں ملی۔
زینت کے شوہر احسن خان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ زینت کو سکول کے دنوں سے جانتے تھے اور جب زینت نے اپنے گھر والوں سے اپنی مرضی سے شادی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو اسے مارا پیٹا گیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیاـ۔
انھوں نے کہا: ’وہ اب بھی واپس نہیں جانا چاہتی تھی اور کہہ رہی تھی کہ وہ لوگ مجھے نہیں چھوڑیں گے، میرے گھر والوں نے اسے بھیجا، ہمیں کیا پتہ تھا وہ اسے مار ڈالیں گے۔‘







